تنویر مہر و مہ میں نہ حسن ضیا میں ہے

جتنا جمال مصحفِ نورالہدیٰ میں ہے وہ لہجہ نور والا ، وہ اسلوب پُر وقار وہ لفظ محترم ہے جو ان کی ثنا میں ہے جو مانگنا ہو مانگو انہیں کے طفیل سے مرضی خُدا کی میرے نبی کی رضا میں ہے اُن پر نِثار ہو کے ذرا دیکھو آئینہ آرائش حیات غمِ مُصطفیٰ میں […]

کیا کہوں میں کہ کیا محمد ہے

ایک نورِ خدا محمد ہے محفلِ قرب کی خبر کس کو واں تو اللہ یا محمد ہے یہ فقط نقصِ دید ہے ورنہ کیا خدا سے جدا محمد ہے کس کو باریک بینیاں اتنی کون سمجھے کہ کیا محمد ہے عبدِ اصنام کیوں نہ دشمن ہوں دوست اللہ کا محمد ہے عاصیانِ سقیم کو مژدہ […]

محمد نور ذاتِ کبریا ہے

خدا سے کم ہے اور سب سے سوا ہے بجز احمد یہ کس کا مرتبا ہے کہ ہر اک پیشوا کا پیشوا ہے وہ بحرِ فضل ہے اُس کا کہ جس کے ہر اک قطرہ میں اک دریا بھرا ہے وہ اصل مدعا جس کے سبب سے وجودِ آدم و حوّا ہوا ہے وہ بحرِ […]

جہاں کہیں بھی اجالا دکھائی دیتا ہے

تمہارا نقشِ کفِ پا دکھائی دیتا ہے یہ سارا عالم امکاں تمہارے سامنے ہے تمہیں کہو کوئی تم سا دکھائی دیتا ہے عروج سرحد روح الامیں سے بھی آگے براق آپ کا بڑھتا دکھائی دیتا ہے فرازِ عرش پہ ایوانِ ذاتِ وحدت میں تمہارے نور کا ہالہ دکھائی دیتا ہے جہاں پہ ممکن و امکاں […]

بابِ مدحت پہ مری ایسے پذیرائی ہو

لفظ خوشبو ہوں ، خیالات میں رعنائی ہو​ ہو اگر بزم ترا نام رہے وردِ زباں تجھ کو سوچوں جو میسر کبھی تنہائی ہو​ وادیء جاں میں پڑاو ہو تری خوشبو کا گوشہء دل میں تری انجمن آرائی ہو​ چاک کرتی ہیں قبا ، فرطِ ہوا سے کلیاں اے صبا! کوچہء دل دار سے ہوآئی […]

مرے رسول کہ نسبت تجھے اجالوں سے

میں تیرا ذکر کروں صبح کے حوالوں سے نہ میری نعت کی محتاج ذات ہے تیری نہ تیری مدح ہے ممکن مرے خیالوں سے تُو روشنی کا پیمبر ہے اور مری تاریخ بھری پڑی ہے شبِ ظلم کی مثالوں سے ترا پیام محبت تھا اور میرے یہاں دل و دماغ ہیں پُر نفرتوں کے جالوں […]

خاک مدینہ ہوتی میں خاکسار ہوتا

ہوتی رہ مدینہ میرا غبار ہوتا آقا اگر کرم سے طیبہ مجھے بلاتے روضے پر صدقے ہوتا ان پر نثار ہوتا مرمٹ کے خوب لگتی مٹی میری ٹھکانے گر ان کی رہ گزر پر میرا مزار ہوتا یہ آرزو ہے دل کی ہوتا وہ سبز گنبد اور میں غبار بن کر اس پر نثار ہوتا […]

پھر اہلِ حرم سے ملاقات ہوتی

پھر اشکوں سے کچھ شرحِ جذبات ہوتی دمِ دید پھر جلوہء نو بہ نو سے مرے چشم و دل کی مدارات ہوتی مدینے کی پُرنور دلکش فضا میں نظر محوِ دیدِ مقامات ہوتی مدینہ کے احباب ہمراہ ہوتے شبِ ماہ میں سیرِ باغات ہوتی خبر کچھ نہ رہتی زمین و زماں کی وہ محویتِ خاص […]

بر سرم کوہِ گناہے یارسول

پیشِ لطفت برگِ کاہے یارسول بر منِ خستہ جگر ہم کُن کرم از سرِ لطف نگاہے یارسول گر سلامِ ما چو یابد یک جواب پس بود ایں عزو جاہے یارسول نیست در کونین ہمچو من گدا ہر دو عالم چوں تو شاہے یارسول بر درت باپشت دو تا آمد بستہ ام بارِ گناہے یارسول بر […]

اگر اے نسیمِ سحر ترا! ہو گزر دیار ِحجاز میں

مری چشمِ تر کا سلام کہنا حضورِ بندہ نواز میں تمہیں حدِ عقل نہ پاسکی فقط اتنا حال بتا سکی کہ تم ایک جلوہء راز تھے جو نہاں ہے رنگِ مجاز میں نہ جہاں میں راحتِ جاں ملی ، نہ متاعِ امن و اماں ملی جو دوائے دردِ نہاں ملی ، تو ملی بہشتِ حجاز […]