خوشبوئے گلستان نہ شبنم ہے معتبر
جس میں حضور ہیں وہی عالم ہے معتبر ہاں ہاں یقین شرط ہے تاثیر کیلئے وردِ درودِ پاک سے ہر دم ہے معتبر جس لطف میں گزرتے ہیں اب روز و شب مرے لگتا ہے جیسے ہجر کا موسم ہے معتبر طیبہ کا غم ملے تو بتانا ذرا مجھے خوشیاں ہیں معتبر یا مرا غم […]