خوشبوئے گلستان نہ شبنم ہے معتبر

جس میں حضور ہیں وہی عالم ہے معتبر ہاں ہاں یقین شرط ہے تاثیر کیلئے وردِ درودِ پاک سے ہر دم ہے معتبر جس لطف میں گزرتے ہیں اب روز و شب مرے لگتا ہے جیسے ہجر کا موسم ہے معتبر طیبہ کا غم ملے تو بتانا ذرا مجھے خوشیاں ہیں معتبر یا مرا غم […]

جس نے بھی ہوا خیر سے کھائی تِرے در کی

خوشبو کہے ” مانگت ہوں میں بھائی تِرے در کی ” زخمِ دلِ بے چین پہ تسکین کی خاطر مرہم کی طرح خاک لگائی تِرے در کی عیسٰی کی ہے معراج کہ تسمے تِرے باندھے کب خاک اٹھائیں گے عیسائی تِرے در کی ؟ اُس رات ستاروں کو بھی ہمراز سا پایا جس رات مجھے […]

دریائے ہجر میں ہے سفینہ تِرے بغیر

کس کو پکاریں ماہِ مدینہ ! تِرے بغیر کھائی ہو جس نے تیری ہوا، شہرِ مصطفٰی ! اُس کیلئے تو موت ہے جینا تِرے بغیر اچھا ہوا کہ دل کی جگہ رکھ لیا تمہیں ورنہ قرار پاتا نہ سینہ تِرے بغیر سن کیسے لے گا تیرے بِنا کوئی بات رب جب کوئی بات اُس نے […]

فرشتے جن و انساں سب درودِ پاک پڑھتے ہیں

سبھی عالم بحکمِ رب درودِ پاک پڑھتے ہیں کوئی عاشق سناتا ہے جب اُن کے شہر کی باتیں برس پڑتی ہیں آنکھیں ، لب درودِ پاک پڑھتے ہیں خیالِ آمدِ جاناں کی خوشبو پھیل جاتی ہے مِرے دل کے دریچے جب درودِ پاک پڑھتے ہیں وہ اپنی قبر میں رہتے ہوئے بھی جان لیتے ہیں […]

آؤ مل کر سارے عالم کی یوں آرائش کریں

اپنے بچوں سے فقط نعتوں کی فرمائش کریں اُن کے آنے سے ملا ، جس کو ملا جتنا ملا کُل جہاں پھر کیوں نا اُن کا جشنِ پیدائش کریں کاش کہہ دیں قدسیانِ حشر سے میرے نبی میرا مدْحَ خواں ہے اس کے ساتھ گنجائش کریں چاہئیے گر عزت و نام و رضائے کبریا اُن […]

عیاں ہے روزِ روشن کی طرح ایسا نہیں ہوتا

نبی ہوتا بشر ہے پر بشر جیسا نہیں ہوتا یہ قانونِ محبت وضع کردہ ہے خداوند کا کہ محبوبوں کے ناموں تک میں بھی نقطہ نہیں ہوتا صحیفۂ محبت کی ہر اِک آیت سے ثابت ہے خدا نے اُس کا کیا کرنا ہے جو تیرا نہیں ہوتا فلک کو پھاڑ دے ہجرِ دیارِ مصطفٰی لیکن […]

دنیا کی کشمکش میں نہ فکرِ وباء میں ہم

2021ء کی پہلی نعت جب کرونا وباء عروج پر تھی دنیا کی کشمکش میں نہ فکرِ وباء میں ہم یہ سال بھی گزاریں گے مدح و ثناء میں ہم ہر سال حاضری کی سند دستخط شدہ اِس سال جا کے لائیں گے دستِ دعا میں ہم مکّے میں گزریں کاش کہ ذوالحج کے رات دن […]

حرکت میں قلم اُن کی عطاؤں کے سبب ہے

اور غوطہ زنِ عطر ثناؤں کے سبب ہے ہر بار فنا ہونے سے بچ جاتی ہے دنیا یہ شہرِ مدینہ کی ہواؤں کے سبب ہے ہر ایک تعلق کو ضرورت ہے وفا کی عباس ! یہ سب تیری وفاؤں کے سبب ہے محسوس نہ ہو گی جو ہمیں گرمئِ محشر زلفِ شہِ ابرار کی چھاؤں […]

حالتِ زار سے واقف ہے خطا جانتی ہے

رحمتِ سیدِ عالم کی ہوا جانتی ہے کس کی زلفوں کی اسیری ہے ہماری منزل رونقِ گلشنِ فردوس تُو کیا جانتی ہے بس مرا کام یہی ہے کہ اَغِثْنِیْ کہہ دوں آگے جانا ہے کہاں میری صدا جانتی ہے موسمِ ابر نگاہوں میں بلا غرض نہیں چشمِ تر ذکرِ مدینہ کو بڑا جانتی ہے دیکھ […]

مشکل میں پڑی ہے بخدا جانِ تبسم!

آ جاؤ سرِ بامِ قضا جانِ تبسم! آئی ہے مجھے ملنے تو آ بیٹھ مِرے پاس سب چھوڑ ، مدینے کی سنا جانِ تبسم! کس شہر کی گلیاں بھی معادن ہیں سکوں کی دکھ درد کے ماروں کو بتا جانِ تبسم! لے آیا تجھے گنبدِ خضرٰی کے جلو میں اب جانے کو تیار ہے کیا […]