مطلعِ نورِ الٰہی ہے نہارِ عارض
مصدرِ ہشت جناں فیضِ بہارِ عارض اے سیہ کارو ! تمہیں طلعتِ بخشش کی نوید ! لِلہ الحمد کہ ہے زلف کنار عارض جیسے تفسیرِ "جلالین ” ہو گردِ مصحف ایسے ہی خط ہے یمین اور یسارِ عارض تیغِ تنویر سے کر دوں گا ابھی تجھ کو ہلاک میں ہوں اے ظلمتِ غم ! عاشقِ […]