سیرت کے نور آپ نے جن کو دِیئے حضور !
اُن کے نقوشِ پا پہ ہیں روشن دِییے حضور ! در اُمَّتانِ سابِقہ گر کا مِلے حضور ! اس کو بھی فیض آپ کے در سے مِلے حضور ! جبریلِ حرف عرشِ ثنا کو نہ پا سکا در ماندہ ہے عقابِ تخیّل ترے حضور ” واللّٰہ عزیزِ مِصرِ کمالاتِ کل ہیں آپ اور آپ جانِ […]