ہے ساری کائنات میں طیبہ نگر حسیں
پیارے نبی کے شہر کے دیوار و در حسیں گُزرے جہاں جہاں سے بھی سرکارِ دو جہاں مہکی ہوئی ہے اب تک ہر راہ گزر حسیں جُھک کر سلام کرتے تھے آقا کریم کو آتے تھے جتنے راستے میں سب شجر حسیں گوشے ہیں نُور و نُور اور جَگمگ فضا ہوئی اُس شہرِ نور بار […]