محمد سے الفت اُبھارے چلا جا
یُونہی زندگانی سُدھارے چلا جا پُکارے گی منزل تجھے آگے بڑھ کر ’’مُحمد مُحمد پُکارے چلا جا‘‘ اُنہی کے ہے در پر گُناہوں کی بخشش سو بارِ گراں کو اُتارے چلا جا تصوّر میں رکھ کر سدا سبز گُنبد تُو رُوح و بدن کو نکھارے چلا جا لگا کر تُو دہلیز پر اُن کی ڈیرہ […]