بھرے ہیں گھاؤ مرے جب لیا ہے آپ کا نام
مرے نصیب کی گویا شفا ہے آپ کا نام لکھا ہے قلب کی تختی پہ اس لئے میں نے ’’میں جانتا ہوں کہ سِرِ بقا ہے آپ کا نام‘‘ لیا جو نامِ محمد تو ہونٹ فورًا ہی ملے ہیں شوق سے چوما گیا ہے آپ کا نام گِھرا تھا میں جو بھنور میں تو میری […]