جو کام کرتا ، شریعت کے ماتحت کرتا
اگر میں شہرِ نبی میں ملازمت کرتا میں اس دیار میں جاروب کش ہی بن جاتا سو ، کیا مجال کہ قاروں مسابقت کرتا خزاں بہار کا موسم ، سماں بدلتے ہوئے یقیں ہے کہ مجھی سے مشاورت کرتا بس اُس نگر کے کسی طاقچے میں جلتا میں مزاجِ موجِ ہوا بھی مصالحت کرتا کچھ […]