وہ جو میثاق نبیوں سے باندھا گیا اس کا تھا مدعا خاتم الانبیاء

بزمِ ہستی سجا کر دکھایا گیا معنی لولاک کا خاتم الانبیاء تھا وہ قصرِ نبوت کا منظر حسیں جس میں کوئی کمی تھی کہیں نہ کہیں وہ جو آئے عمارت مکمل ہوئی رنگ کُھل کر کِھلا خاتم الانبیاء آپ سے پہلے تھے جو پیمبر سبھی اپنے اپنے زمانوں کے تھے سب نبی آپ ہی کی […]

درودوں سلاموں سے مہکی ہوا ہے

محمد محمد کی ہر سُو صدا ہے محمد ہے احمد ہے محمود ہے وہ وہی محورِ مدحِ ہر دوسرا ہے ملا ہے درودوں کا حکمِ الٰہی لساں در لساں وردِ صلِّ علیٰ ہے امامِ رُسُل ہے وہ ہادیٔ کُل ہے وہی سرور و صدرِ ملکِ ہدیٰ ہے وہی ہے وہی سارے دردوں کا درماں وہی […]

چشم در چشم اک آئینہ سجا رکھا ہے

ہر بُنِ مُو کو اسی کام لگا رکھا ہے جب سے جانا کہ وہ اس راہ سے ہو کر گزرے تب سے آنکھوں کو وہیں فرش بنا رکھا ہے ان کے آنے کی خبر جب سے سنی ہے ہم نے دل کے آنگن کو عقیدت سے سجا رکھا ہے آج دھڑکن ہے یہ کیوں تیز […]

مدحت سے ابتدا ہو ، مدحت پہ انتہا

وردِ زبان ہر دم جاری رہے ثنا حاصل ہو زندگی کا مدحت کی یہ عطا مدحت ہی ہو تمنّا ، مدحت ہو ادّعا حی علی الثناءِ حی علی الثنا حرفوں کا حسنِ تام یا لفظوں کا بانکپن ترکیب ، استعارہ و تشبیہہ کی پھبن رنگینئِ بیان یا شیرینئِ سخن وقفِ ثنائے شاہ ہو ہر شعر […]

ہم فقیروں پر سخی کا پھر کرم ہونے کو ہے

خوش نصیبی پھر ہمارے ہم قدم ہونے کو ہے شاہِ محبوباں کے درکی حاضری ہو گی نصیب قافلہ اپنا رواں سوئے حرم ہونے کو ہے رحمتِ باری برسنے کا ہے موسم پھر قریب جوئے سر شاری یہ اپنی چشمِ نم ہونے کو ہے ہے درودی ساعتوں کا قریۂ جاں پر نزول باصرہ افروز وہ قرآں […]

قریۂ خوشبو مری سانسوں کو مہکانے لگا

دھڑکنوں میں بھی درودی کیف سا چھانے لگا ہیں نخیلِ نُور یا قدسی قطار اندر قطار جگمگاتا سا حسیں منظر نظر آنے لگا سبز گنبد سامنے ہے اور آنکھیں اشکبار پھر مقدّر دید کی امّید بر لانے لگا کہکشاں شمس وقمر راہوں میں ایسے بچھ گئے آسماں جیسے زمیں کو چومنے آنے لگا آرزوئیں پا […]

یہ دھڑکنوں کی درود خوانی کوئی اشارہ ہے حاضری کا

صبا کی خوشبو بتا رہی ہے کہ پھر بلاوا ہے حاضری کا مرے سفر میں ہو دیر شاید ابھی ہے کچھ انتظام باقی مگر میں دل کو سنبھالوں کیسے کہ دل دوانہ ہے حاضری کا لگی ہیں ان کے کرم پہ آنکھیں وہ اذن دیں تو نصیب جاگیں میں اپنی پلکوں پہ چل کے جاؤں […]

نطق و بیان و ہمّتِ گفتار دم بخود

وہ جلوہ ہائے نور کہ اظہار دم بخود نقطہ بھی حسنِ اسمِ محمّد پہ بار ہے تشبیہ ،استعارہ و اشعار دم بخود تحریر ہو تو کیسے جلالت مآب حسن خامہ دو نیم سرنگوں ، افکار دم بخود وہ تابشِ ضحٰی ہو کہ والّیل کا جمال ان کے حضور دن کہ شب تار، دم بخود قرآں […]

’’کوچۂ خوشبو میں ہوں اور قریۂ نکہت میں ہوں‘‘

اک سرور و کیف میں ہوں خاص اک بہجت میں ہوں لفظ و معنی کے جہانِ تازہ کی ہر دم نمود لؤ لؤ و مرجان کی تخلیق کی ندرت میں ہوں لالہ و گُل کھل رہے ہیں پھر بہارِ نعت میں خامۂ خوشبو رقم سے آپ کی مدحت میں ہوں قبّۂ اخضر نگاہوں میں بسا […]

جانِ رحمت ہے آپ کی سیرت

شانِ قدرت ہے آپ کی سیرت راہ بھولوں کو راہبر کر دے کیا بصیرت ہے آپ کی سیرت جس سے بڑھتی ہے باہمی الفت حسنِ حکمت ہے آپ کی سیرت مہکی مہکی معاشرت جس سے نور و نکہت ہے آپ کی سیرت جس سے کھلتی ہیں خیر کی راہیں راہِ جنّت ہے آپ کی سیرت […]