زندگی جس کی بھی ہوتی ہے بسر نعتوں میں

لطف ملتا ہے اسے شام و سحر نعتوں میں اپنے لفظوں میں کہاں تاب وتواں تھی اتنی ان کی توصیف سے ہیں لعل و گہر نعتوں میں ان کی یادوں سے بسا لیتا ہوں دل کی بستی کھلتے جاتے ہیں جو توفیق کے در نعتوں میں نعت گوئی ہے فقط ان کی عطا پر موقوف […]

دیدۂ شوق میں جب حاصلِ منظر ابھرے

مطلعِ حرف سے تب مدحِ پیمبر ابھرے اسمِ تاباں شہِ کونین کا جب بھی سوچا بامِ افکار پہ کیا کیا مہ و اختر ابھرے ان کی طاعت میں کوئی بردہ مٹادے خود کو اس پہ بھی بھیک میں کچھ حسنِ پیمبر ابھرے ان کے عشّاق کو کس طرح مٹائے دنیا ان کی الفت میں جو […]

ثمرۂ شوق نئے غنچوں میں رکھا جائے

شجرۂ نعت مری نسلوں میں رکھا جائے میرے بچوں کو بھی ہو مدحِ نبی کی توفیق نسل در نسل مجھے بردوں میں رکھا جائے با ادب نعت کہیں نعت پڑھیں نعت سنیں پاک لفظوں کو ادب لہجوں میں رکھا جائے گر نہیں نعمتِ دیدار ابھی قسمت میں یہ بھی کافی ہے مجھے منگتوں میں رکھا […]

اجاڑ کب سے پڑا ہے اداس غرفۂ دل

حضور ! آئیے بس جائے میرا حجرۂ دل سنبھال لیں گے ہم آنکھوں میں خاکِ پا ان کی اجالنا ہے بصیرت سے اپنا دیدۂ دل بنے گا رشکِ چمن وہ انہی کی برکت سے گھرا ہوا ہے جو وحشت میں میرا بیشۂ دل بہے ہیں اشکِ ندامت جو ان کی الفت میں چمک ہی جائے […]

گلاب فکر ہے ان سے عمل بھی لالۂ خیر

جڑا ہے ذکر سے ان کے ہر اک حوالۂ خیر زباں ہے لفظ طلب تو بیان عجز نشاں قلم ہے تشنہ رقم لکھنے کو مقالۂ خیر انہی کی سیرتِ اطہر انہی کا خلقِ عظیم مطالعاتِ جہاں میں حسیں مقالۂ خیر ورق ورق پہ ہیں روشن عطا و مہر و کرم حیاتِ نور کا دفتر کھلا […]

تری رحمت پہ ہے اپنا گزارا یا رسول اللّٰہ

تری رحمت ہی ہے اپنا سہارا یا رسول اللّٰہ ہوائیں پھر مخالف ہیں ہمارے پاک پرچم کی کبھی نیچا نہ ہو پرچم ہمارا یا رسول اللّٰہ تلاطم خیز موجوں میں گھرا اپنا سفینہ ہے کرم فرمائیں مل جائے کنارا یا رسول اللّٰہ برے بھی ہیں بھلے بھی ہیں مگر ہیں تو شہا تیرے تجھی کو […]

جہانِ فتنہ و شر میں وہ گونجا خطبۂ خیر

ظلامِ ظلم و ستم میں وہ چمکا جلوۂ خیر افق افق پہ ہے اب بھی وہ روشنی کی دلیل شبِ ربیع جو ابھرا تھا ایک لمعۂ خیر جہانِ زیر و زبر میں وہ کلمۂ تمجید بلا کے قحطِ صدا میں قسیمِ جذبۂ خیر فلاحِ نوعِ بشر ہے انہی کے در سے جڑی ہے خیر بارِ […]

ملے گا بخشش کا سب کو مژدہ نگاہِ رحمت شفیع ہو گی

چمک اٹھے گا نصیب سب کا پھر ان کی قسمت رفیع ہو گی انہی کے آنے کی برکتیں ہیں جہان بھر میں جو رونقیں ہیں ازل سے تا بہ ابد جہاں میں انہی کی نعمت وسیع ہو گی شجر حجر ان کے زیرِ فرماں انہی کے بردے ہیں جنّ و انساں انہی کی اُمّت کثیر […]

بلا سبب تو نہیں ہے کھلا دریچۂ خیر

صبا نے دل کو سنایا کسی کا گفتۂ خیر ریاضِ جاں میں انہی سے کھلے ہیں خیر کے گل دل و نگاہ انہی سے بنے حدیقۂ خیر بچھا کے بیٹھے ہیں آنکھیں کہ ہو گا ان کا گزر چمک رہا ہے امیدوں سے دل کا خیمۂ خیر گزر رہی ہے جو بادِ نسیم دھیرے سے […]

صورت ہے تیری فجر کی تنویر یا نبی

سیرت ہے تیری خیر کی تکثیر یا نبی شمس و ضحٰی ہے چہرۂ پُر نور نُورِ علم عفو و کرم ہے لیل کی تفسیر یا نبی منکر بھی تیرے دین کا کرتے ہیں اعتراف کیسی ہے تیرے خلق کی تا ثیر یا نبی تیری نگاہِ نور کے صدقے نکل پڑی پتھر دلوں سے خیر کی […]