ہر نعت تری لفظوں کی تجمیل ہے آقا

ہر نعت تری حرفوں کی تجلیل ہے آقا ہیں سارے ثناگر ترے حسّاں کی روش پر ہر نعت ترے حکم کی تعمیل ہے آقا سوچیں تو ترا وصف جو لکھیں تو تری نعت کیا نعت نگاروں کی یہ تبجیل ہے آقا مدحت کا عطا کیجیے نایاب طریقہ لفظوں سے کہاں نعت کی تشکیل ہے آقا […]

وہ کرم بھی کیا کرم ہے وہ عطا بھی کیا عطا ہے

جو گدا کو ڈھونڈتی ہے وہ سخا بھی کیا سخا ہے وہ طلب بھی کیا طلب ہے جو قبول بے سبب ہے جسے عفو خود چھپا لے وہ خطا بھی کیا خطا ہے تیرے بولنے سے پہلے جسے رب قبول کر لے میں فدا تری دعا کے وہ دعا بھی کیا دعا ہے جو لٹا […]

مشکل ہوئی اب جینے کی تدبیر شہِ دیں

ہے آپ کے ہاتھوں ہی میں تقدیر شہِ دیں نفرت ہے عداوت ہے تکبّر ہے حسد ہے معدوم ہوئی خُلْق کی توقیر شہِ دیں ہو جائے جو ابرو کا سکوں بار اشارہ کٹ جائے گی آلام کی زنجیر شہِ دیں کیوں قتل ہوئے سامنے بچوں کے وہ اپنے کیا ظلم ہے یہ خون کی تحریر […]

رہبر ہے رہنما ہے سیرت حضور کی

منزل ہے راستہ ہے سیرت حضور کی آدابِ زندگی کی روشن کتابِ جاں تحریرِ دلکشا ہے سیرت حضور کی اک جہدِ مستقل کا پیہم نصابِ زیست ہمّت فزا ادا ہے سیرت حضور کی مہر و وفا، مروّت، بندہ نوازیاں بندوں کا آسرا ہے سیرت حضور کی سچّائی ، سادگی و ایفائے عہد سب عظمت کی […]

اب جائے کہاں اُمّتِ دلگیر نبی جی

کام آتی نہیں کوئی بھی تدبیر نبی جی مشکل پہ ہے مشکل تو مصیبت پہ مصیبت اس عُسر میں ہو صورتِ تیسیر نبی جی حالات ہوئے جاتے ہیں ابتر سے بھی اخرب للّٰہ کوئی صورتِ تعمیر نبی جی مجبور ہے محصور ہے وہ کرب و بلا میں ہے خون میں ڈوبا ہوا کشمیر نبی جی […]

سانسوں میں بس گیا ہے ترا نام یا نبی

دھڑکن میں گونجتا ہے ترا نام یا نبی کیسی خیامِ جاں میں یہ مہکار ہے مچی خوشبو ئیں بانٹتا ہے ترا نام یا نبی روشن ہیں جس سے ساری ہی راہیں حیات کی خورشیدِ نُور زا ہے ترا نام یا نبی رہتا ہے جیسے کوئی مرے دل کے آس پاس وحشت میں آسرا ہے ترا […]

ترا قرآن تری ذات کی تصویرِ مبیں ہے

تری سیرت ترے قرآن کی تنویرِ مبیں ہے ترا قرآن تری سیرتِ اطہر کا قصیدہ تری سیرت ترے قرآن کی تفسیرِ مبیں ہے ترا قرآن ترے خلق کی تابندہ روایت تری سیرت ترے قرآن کی تعبیرِ مبیں ہے ترا قرآن تری مہر و محبت کی حکایت تری سیرت ترے قرآن کی تاثیرِ مبیں ہے ترا […]

نعت ہی نعت جو قرآن کے ادراک میں ہے

نعت ہی نعت جو پہنائیء افلاک میں ہے اک تری نعت کہ جو مجلسِ میثاق میں تھی اک تری نعت کہ جو خطبۂِ لو لاک میں ہے من کا صحرا بھی ہوا تیری عطا سے سیراب ایک سوتا ہے کہ پھوٹا دلِ صد چاک میں ہے تیری یادوں سے مہکتا ہے ریاضِ جاں بھی تیری […]

لازم ہے شہرِ ناز میں جائے تو جب اے دل

جائے بصد نیاز بشرطِ ادب اے دل خواہش ، خیال ، آرزو ، باقی نہ کچھ رہے اک خود سپردگی ہو وہاں بے طلب اے دل منظر وہ حسنِ دید کا ٹھہرا رہے سدا پھر مُو بہ مُو بھی آنکھ ہو دیکھے جو سب اے دل سانسوں سے میں درود کا وردِ دروں کروں مہکے […]

کیف و لطف و سرور کی باتیں

واہ میرے حضور کی باتیں پھول کلیوں کی حسن آرائی جیسے ان کے ظہور کی باتیں حسن، نزہت، جمال ، رعنائی اُن کی رنگت کی نور کی باتیں چشمِ ما زاغ دیکھتے ہی رہے وہ جو کرتے تھے طُور کی باتیں اُن کے قدموں کی فیض ارزانی اوجِ فہم و شعور کی باتیں اُن کے […]