کیا حسنِ سخا جانِ سخا دستِ کرم ہے

کیا حسنِ عطا جانِ عطا دستِ کرم ہے لایا ہوں خطاؤں سے بھری فردِ عمل میں آقا جو خطا پوش ترا دستِ کرم ہے ہر دکھ کی دوا اور شفا پائی ہے میں نے مجھ کو بھی ترا دستِ شفا دستِ کرم ہے ٹھنڈک بھی عجب سی ہے تو خوشبو بھی عجب سی کونین میں […]

تیرے لفظوں میں کیا بلاغت ہے

تیری باتوں میں کیا فصاحت ہے شہد گھلتا ہے آج بھی منہ میں تیری یادوں میں کیا حلاوت ہے فکر ، فہم و شعور روشن ہیں تیرے قرآں میں کیا ہدایت ہے دونوں عالم کا خوش نما منظر حسنِ محبوب کی عنایت ہے لفظ ومعنیٰ کی آبرو ساری تیری گفتار کی بدولت ہے تیرے رُخِ […]

جب کرم بار آپ ہوتے ہیں

رنج راحت شمار ہوتے ہیں آنکھ بھی رات دن برستی ہے وہ بھی دل کا قرار ہوتے ہیں بے قراری کمال ہوتی ہے جس میں جلوے ہزار ہوتے ہیں ان کے آنے کی دیر ہوتی ہے کو بہ کو لالہ زار ہوتے ہیں ابنِ سمرہ کو چاند سے بڑھ کر ان کے روشن عذار ہوتے […]

جمال سارا ہے اس کی اترن کہ جانِ حسن و جمال ہے وہ

کمال سارا اسی کا صدقہ کہ اصلِ فضل و کمال ہے وہ حسین تر ہے اسی کا اُسوہ جمیل تر ہے اسی کا قدوہ ادائیں اس کی سراپا خُوبی کہ روحِ حسنِ خصال ہے وہ کلامِ ربیّ کی ندرتوں سے عیاں ہے حسنِ کلام اس کا خدا کےلہجے میں بولتا ہے کہ ایسا قُدسی مقال […]

اور کس نے خیال رکھا ہے

مجھ کو رحمت نے پال رکھا ہے مار دیتے یہ غم زمانے کے تم نے آقا سنبھال رکھا ہے نام ان کا لبوں پہ ہے پیہم اور مشکل کو ٹال رکھا ہے آتی ہے طیبہ سے ہوا ٹھنڈی جس نے ہم کو بحال رکھا ہے ان کی مدحت کے فیض نے نوری مصرع مصرع اجال […]

مرے آقا عطائیں چاہتا ہوں

بہار آسا گھٹائیں چاہتا ہوں خطاؤں نے کیا دامن دریدہ شفاعت کی قبائیں چاہتا ہوں رہوں میں خادمِ شبّیر و شبّر وفائیں ہی وفائیں چاہتا ہوں غمِ حسنین میں زندہ رہوں میں دعائیں ہی دعائیں چاہتا ہوں درِ زہرا سے نسبت بیٹیوں کو مرے آقا ردائیں چاہتا ہوں مرے بیٹے کو بھی در کی غلامی […]

خوشا وہ دل کہ جو دھڑکے بہ آرزوئے رسول

خوشا وہ دم کہ جو نکلے بہ جستجوئے رسول مری نگاہ بھی پائے بصارتوں کا جواز کبھی حیات میں دیکھوں جو حسنِ روئے رسول چمک اٹھے گا سماعت کا ایک اک گوشہ کبھی جو گوش میں اترے وہ گفتگوئے رسول یہاں پہ ضبط ہے لازم اے نو نیازِ جنوں نہیں ہے نجد کا صحرا کہ […]

مرا کل بھی تیرے ہی نام تھا مرا کل بھی تیرے ہی نام ہو

مرے لب پہ کل بھی درود تھا مرے لب پہ کل بھی سلام ہو ترا نام راحتِ جان تھا ترا نام راحتِ جاں رہے مری زندگی کا ورق ورق ترے نام پر ہی تمام ہو ترا ذکر و فکر ہی یا نبی رہے میرا حاصلِ زندگی ترا ذکر ہی مری صبح ہو، ترا ذکر ہی […]

آپ شاہد مبشّر نذیر آپ ہیں

آپ داعی سراجِ منیر آپ ہیں آپ ہی سے ہدایت کے سب سلسلے آپ ہادی ہیں منذر نذیر آپ ہیں آپ ہی سے منوّر ہوئے دو جہاں نُورِ مطلق سے خود مستنیر آپ ہیں اہل ایماں پہ لازم ہے دیں کی مدد اہلِ ایماں کے حامی نصیر آپ ہیں آپ کا رب ہے مولا نصیر […]

وہ لوگ جو جاتے ہیں مکّے میں مدینے میں

تقدیر بناتے ہیں مکّے میں مدینے میں اب تک ہیں فضاؤں میں خوشبوئیں پسینے کی آثار بتاتے ہیں مکّے میں مدینے میں منظر وہ احد کے ہوں یا غارِ حرا کے ہوں اک یاد دلاتے ہیں مکّے میں مدینے میں کعبے کی فضا تجھ سے روضے کی ضیا تجھ سے ہم دل چمکاتے ہیں مکّے […]