اے محسنِ انساں تری سیرت کے میں صدقے

انوار سے جس کے ہوئے کردار منور اوصاف و کمالات میں دیکھا ہی نہیں ہے تخلیقِ دو عالم میں کوئی آپ کا ہمسر رب نے بھی تجھے بھیج کے احسان جتایا آمد سے تری حور و ملک جھوم رہے ہیں دنیائے زمیں پر ہے بپا جشنِ بہاراں عشاق تصور میں قدم چوم رہے ہیں ہر […]

اُن کی سیرت سے آگہی ہو گی

دل کی دنیا میں روشنی ہو گی دل کا دامن درود سے بھرلو وادیِ جاں ہری بھری ہو گی ربط قائم رہے درودوں سے ان کی ہر لمحہ رہبری ہو گی پہلے اُن کو بنا حبیب اپنا پھر تری رب سے دوستی ہو گی باثمر جو ملے گا اُس در کا اُس کے اندر تو […]

گدائے در ہیں کرم کے طالب حضور ہم سے نبھائے رکھنا

ہمیں غلامی کے راستوں پہ کریم آقا چلائے رکھنا بڑا سہارا ہے نام تیرا بڑے مسائل کا سامنا ہے ہمیشہ حالات کی تپش میں سروں پہ رحمت کے سائے رکھنا جبینِ عالم پہ سب سے پہلے مرے نبی نے یہی لکھا ہے چراغ ظلمت کے راستوں میں محبتوں کے جلائے رکھنا جو حاضری ہو بڑے […]

وہ منزلِ حیات ہے وہ جانِ انقلاب

نورِ شعور بھی وہی وہ ہی مرا نصاب عشقِ حضور کے بنا بے لطف زندگی سب رونقیں فضول ہیں ہر دلکشی عذاب خطبات عالیہ ترے منشورِ آگہی رشکِ بہار لہجہ ہر اک لفظ ہے گلاب پتھر سرشت لوگوں کے لہجوں کی تلخیاں کب لاسکیں کبھی تری ہمت میں اضطراب دانشوری یہی ہے کہ ہر موڑ […]

وہ نکلا جس گھڑی غارِ حرا سے

چمک اُٹھا جہاں اُسکی ضیا سے نہ پوچھو طلعتِ روئے منور جہاں میں روشنی ہے نقشِ پا سے ملے گی ہر اذیت سے رہائی کوئی سیکھے ازل کے رہنما سے تری گفتار پُر تاثیر ہوگی اگر آغاز ہو صلے علیٰ سے محبت ہے اگر محبوبِ رب سے تو پھر بچ جاؤ گے رب کی سزا […]

کتنے عالم زیرِ رحمت رحمت العالمیں

رب ہی جانے اِس کی وسعت رحمت العالمیں شافعِ محشر امامِ مرسلاں محبوبِ رب آپ ہیں آقائے عظمت رحمت العالمیں قیصرو کسریٰ کی شوکت ہوگئی تھی منہدم کس قدر ہے رعبِ بعثت رحمت العالمیں بس شبِ معراج کچھ ظاہر ہوئی جبریل پر نور تیرے کی حقیقت رحمت العالمیں نام تیرا وادیِ رحمت کا ہے حسن […]

کتنا حسین دلکش اعلیٰ ترا خیال

شاخِ ثنا پہ آج بھی اُترا ترا خیال غم راحتوں میں ڈھل گئے دل جگمگا اٹھا جب بھی تصورّات میں چمکا ترا خیال چکرا گیا ہے عشق بھی آفاق دم بخود یوں ساکنانِ طیبہ نے رکھا ترا خیال جب بھی سنا ہے شہرِ مدینہ کا تذکرہ اِک وجد آیا روح کو چھایا ترا خیال فرمایا […]

ہر وقت دل کی آنکھ کو طیبہ دکھائی دے

وقتِ نزع حضور کا جلوہ دکھائی دے تیرہ شبی ہوئی ہے مسلط حیات پر میرے حضور آپ کا چہرہ دکھائی دے میرے بھی گھر میں بھیک غلامی کی ہو عطا میرے بھی گھر میں خُلد کا نقشہ دکھائی دے کیسے سجے گی سرپہ یہ دستارِ فخر جب اُن کے گدائے شہر کا رتبہ دکھائی دے […]

حضور مجھ کو بھی بلوائیے خدا کے لئے

مرا نصیب بھی چمکائیے خدا کے لئے حضور آپ کے دم سے ہے چراغاں ہرسُو مجھے بھی راستہ دکھلائیے خدا کے لئے حضور ایک بھکاری ہوں بے ادب حاضر قبول مجھ کو بھی فرمائیے خدا کے لئے ہیں آپ رب کے خزانوں کو بانٹنے والے متاعِ سوز تو دے جائیے خدا کے لئے درِ حضور […]

سارے عالم پہ مہربان حضور

ہوں کبھی میرے بھی مہمان حضور رب کے قرآن کا وہ سرنامہ میری مدحت کی آن بان حضور عزتیں آج بھی اُن کا صدقہ روزِ محشر کی بھی ہیں شان حضور حالتِ زار پہ کریں گے کرم اُمتوں کے ہیں نگہبان حضور مجھ گنہگار کو چھڑا لیں گے رب کی رحمت کے راز دان حضور […]