لفظ محمد سوچ کا قبلہ، صلی اللہ علیہ وسلم

فکر کا معبد، دھیان کا کعبہ، صلی اللہ علیہ وسلم چین وہی، تسکین وہی ہے وقتِ نزع یاسین وہی ہے رحمتِ عالم اس کا رُتبہ، صلی اللہ علیہ وسلم جس میں چلیں بازارِ مقدس، جس میں رکیں وہ غارِ مقدس جس میں بسیں وہ شہرِ مدینہ، صلی اللہ علیہ وسلم مطلعٔ مہرِ بصیرت کہیے، منبعٔ […]

نعت کہنے کو جب بھی اٹھایا قلم، میرے جذبات کو جانے کیا ہو گیا

خامشی لب پہ مدحت سرا ہو گئی، اشک آنکھوں میں حرفِ دعا ہو گیا شکلِ احمد تصور میں سجنے لگی، بُعدِ فُرقت کے سب فاصلے مِٹ گئے میری پلکیں مدینے کی گلیاں بنیں، میرا سینہ ہی غارِ حرا ہو گیا آپکی چشمِ عرفاں کے فیضان سے، سارباں ریگزاروں کے رہبر بنے جو عمر تھا وہ […]

خوشبو ہے ان کا ذکر، اجالا ہے ان کا نام

صبحوں کی روشنی میں مہکتا ہے ان کا نام دُنیا میں جتنے نام ہیں اللہ کے سوا سب سے عظیم و ارفع و اعلیٰ ہے ان کا نام آواز ہیں وہ سازِ رگِ کائنات کی دل کی طرح جہاں میں دھڑکتا ہے ان کا نام مجھ سے کسی نے پوچھے معانی کریم کے بے ساختہ […]

میری تقدیر میں یوں بارِ الہٰا ہوتا

میری آنکھیں، ترے محبوب کا چہرہ ہوتا سوچتا ہوں کہ مرا کیسے گزارا ہوتا ترا مداّح نہ ہوتا، تو میں رُسوا ہوتا ترا خورشیدِ ہدایت نہ اگر ہوتا طلوع ساری دنیا کی فضاؤں میں اندھیرا ہوتا ہاتھ ہوتے، نہ مرے پاؤں، نہ دھڑ ہوتا، نہ سر کچھ نہ ہوتا میں، فقط چشمِ تماشا ہوتا جب […]

شہرِ نبی کو جب بھی کوئی جانے لگتا ہے

میں دل کو، اور دل مجھ کو سمجھانے لگتا ہے جب بھی دیکھتا ہوں میں اپنی عمرِ گریزاں کو روضۂ اطہر کا منظر یاد آنے لگتا ہے دستِ سخا کوئی ایسا نہیں جو اپنے سائل پر عرضِ طلب سے قبل کرم فرمانے لگتا ہے نعت کا شاعر ذکرِ نبی کی ٹھنڈی چھاؤں میں غمِ زمانہ […]

دولتِ عشق ملے، عزتِ دارین ملے

دَر پر آیا ہوں مجھے صدقۂ حَسنین ملے مضطرب پھرتا ہے مداحِ رسولِ عربی نعت ہو جائے تو اِس روح کو کچھ چَین ملے ربِ احمد بھی کریم، احمدِ مُرسَل بھی کریم کیسے خوش بخت ہیں ہم، ہم کو کریَمین ملے ہاں ذرا چھیڑ مواخاتِ مدینہ کی وہ بات کیا محبت تھی کہ آپس میں […]

اے تُو کہ تیری ذات سے محکم ہے میری ذات

اے تُو کہ تیری نعت پہ نازاں قلم دوات مجھ پر سَدا رہی ہے تری چشمِ اِلتفات یہ نعت خواں ہو حشر میں بھی تیرے ساتھ ساتھ حیرت میں ہوں مَلک مرے اوجِ نصیب پر محشر کے لوگ رشک کریں مجھ غریب پر

بیداریٔ نبی پہ نچھاور ہیں مشرقین

آقا کی شب کی نیند پہ قربان مغربین صدقے حرِا کے سوچتے لمحوں پہ کعبتین حضرت پہ میں نثار، فدا میرے والدین سو بار مر کے پھر جیوں دھرتی کی دھول پر مجھ جیسی لاکھ جانیں تصدّق رسول پر