سر چشمۂ عظیم ہے بینائیوں کا وہ
اِک شہرِ لاحدود ہے دانائیوں کا وہ محرم ہے بحرِ قلب کی گہرائیوں کا وہ مرکز ہے کائنات کی پہنائیوں کا وہ وہ آب و خاک و باد کی تکوین کا سبب وہ گلشنِ حیات کی تزئین کا سبب
معلیٰ
اِک شہرِ لاحدود ہے دانائیوں کا وہ محرم ہے بحرِ قلب کی گہرائیوں کا وہ مرکز ہے کائنات کی پہنائیوں کا وہ وہ آب و خاک و باد کی تکوین کا سبب وہ گلشنِ حیات کی تزئین کا سبب
وہ عبدہ ، کی شکل میں پیکر ہے نُور کا چمکا ہے جس کے دَم سے مقدّّر ظہور کا جس کے قدم کی خاک بھی سُرمہ ہے طُور کا راتوں کی ضَو ، دنوں کا اُجالا اُسی سے ہے دنیا میں روشنی کا حوالہ اُسی سے ہے
وہ قبلہ گاہِ قُدس ہے فہم و شعور کا خوراک جس کی جَو کی تھی بستر کھجور کا سَر اُس کے آگے جُھکتا ہے اہلِ غرور کا جاہ و جَلالِ تختِ حکومت نثار ہے اِس فقر پہ شہوں کی جلالت نثار ہے
رحمت ہے جس کی سنگ سے لے کر حریر تک سایہ ہے جس کا پیادے سے لے کر وزیر تک جس اسمِ معتبر کی جڑیں ہیں ضمیر تک طہٰ و قؔ ہے وہی یٰسین ہے وہی شرحِ کلامِ سورئہ وَالتّین ہے وہی
مُردوں کو جان، جاں کو مسیحائی بخش دی سینوں کو دِل دلوں کو توانائی بخش دی غربت کو فقر، فقر کو دارائی بخش دی افلاس کو وقار عطا کر دیا گیا مفلس کو اعتبار عطا کر دیا گیا
بے رنگ آسمان کی قندیل نور بار دھرتی کا حُسن، چرخ کا سرمایۂ وقار بے چین زندگی کے لئے موجبِ قرار ٹوٹے ہوئے دلوں کا سہارا وہی تو ہے گرداب ہے حیات، کنارا وہی تو ہے
اللہ کی رحمتوں کا برسنے لگا سحاب بنجر زمیں کی گود میں کھِلنے لگے گُلاب افکار کی رگوں میں مچلنے لگا شباب فاروق کر دیا گیا ابنِ خطابؓ کو شیرِ خدا کا نام مِلا بو ترابؓ کو
ذہنوں کی تیرگی کو اُجالا حضور نے خورشیدِ علم و فکر نکالا حضور نے انسانیت کو نور میں ڈھالا حضور نے ذرّے مثالِ ماہ چمک دار ہو گئے ہر تیرگی سے برسَرِ پیکار ہو گئے
زلفِ عروسِ ہستیٔ انساں سنوار دی ہر مرد و زن کی ذات مکرّم قرار دی ہر اِک خزاں زدہ کو نویدِ بہار دی آئینِ عدل کا وہ دَروبست کر دیا مظلومِ بے نوا کو زَبردست کر دیا
الفت میں خوں کے پیاسوں کی نفرت بدل گئی انساں تو کیا وحوش کی عادت بدل گئی آیا وہ انقلاب کہ قسمت بدل گئی چمکے سحر کے رنگ، رُخِ شام دُھل گئے انوارِ مصطفی سے در و بام دُھل گئے