میں مدینے اگر نہیں جاتا

بخت میرا سنور نہیں جاتا نامِ احمد کی خیر و برکت ہے ڈالیوں سے ثمر نہیں جاتا نعتِ سرکار لکھوں گا جب تک عمر کا جام بھر نہیں جاتا جو بھی ان کی گلی کا منگتا ہے مانگنے در بدر نہیں جاتا بھول بیٹھا ہوں لذت دنیا اب میرا دھیان ادھر نہیں جاتا جب سے […]

طیبہ کی گلی میں کبھی مکہ کی گلی میں

اے کاش گزر جائے میری یاد نبی میں حسنین کریمین ہوں یا مولا علی ہوں سرکارِ مدینہ کی ہیں عادات سبھی میں اللہ نے بیٹے دیے اس سال سبھی کو سرکارِ دو عالم کی ولادت کی خوشی میں آئے گی نظر گنبدِ خضریٰ کی تجلی تم غور سے دیکھو میری آنکھوں کی میں خوشبو جو […]

خدا سے جو مثالی دوستی ہے

حبیبِ کبریا کی دوستی ہے تو پھر راہِ عدم کی فکر کیسی اگر آقا سے سچی دوستی ہے نمازِ پنجگانہ خوشبو عورت میری تینوں سے گہری دوستی ہے علی مولا کے دشمن سے عداوت ابو بکر سے میری دوستی ہے زباں پر نعت دل میں یادِ دنیا ارے مظہرؔ یہ کیسی دوستی ہے

خیالوں میں مہکی فضائے مدینہ

قلم لکھ رہا ہے ثنائے مدینہ یہ دل ہے ازل سے فدائے مدینہ برائے محمد برائے مدینہ بڑی جاں فزاں ہے صبائے مدینہ خدا عاشقوں کو دکھائے مدینہ نہیں دیکھتے جانبِ باغِ جنت جنہیں راس آئی ہوائے مدینہ اے دیدہ ورو بھر لو آنکھوں میں اپنی کہ سرمہ ہے خاکِ شفائے مدینہ ہے کاسے میں […]

سب سے اعلی سب سے پیاری زندگی

سرورِ عالم کی ساری زندگی عشقِ احمد ہے حقیقی زندگی ہے فریبِ چشم باقی زندگی ان کی صورت نے سنوارے صبح و شام ان کی سیرت نے سنواری زندگی شہرِ طیبہ کے در و دیوار پر زندگی ہے صرف طاری زندگی گنبدِ خضریٰ کے سائے میں سکون چاہتی ہے غم کی ماری زندگی چاہتا ہے […]

ہوک اٹھتی ہے میرے سینے سے

لوٹ آیا ہوں کیوں مدینے سے ہم مدینے سے دور رہ کر جیئں مرنا بہتر ہے ایسے جینے سے پاس بلوایا روضہ دکھلایا اس قدر پیار مجھ کمینے سے گزرے جاتی ان کی یادوں میں زندگانی بڑے قرینے سے ان کی توصیف میں حروفِ سخن جس طرح ہوں جڑے نگینے سے حبِ آلِ نبی کو […]

حضور آپ کی خونی قبائیں کیا کہنے

مگر لبوں پہ مسلسل دعائیں کیا کہنے شگوفہ کار ہے ہر شاخِ آرزو میری نبی کے شہر کی ٹھنڈی ہوائیں کیا کہنے مدینے شہر کی آب و ہوا ہے عطر آگیں سکونِ قلب کا باعث فضائیں کیا کہنے نظارے جان لٹاتے ہیں سبز جنبد پر وہ رنگ و نور میں لپٹی فضائیں کیا کہنے جمی […]

دیارِ طیبہ کے ہم دیکھتے رہے

بے اختیار آنکھوں میں نم دیکھتے رہے پر نور ساعتیں تھیں وہ پر کیف روز و شب سردارِ دو جہاں کا کرم دیکھتے رہے ان کی لحد کو دیکھ نہ پایا اگرچہ میں لیکن مجھے شفیعِ امم دیکھتے رہے جنت کا در بقیع کی صورت کھلا رہا رنگوں میں ڈھلتی شام الم دیکھتے رہے نظریں […]