جلوۂ حسنِ ماہتاب کہاں
ان کا چہرہ کہاں، گلاب کہاں میرے الفاظ روح سے خالی لذتِ معنئ ثواب کہاں
معلیٰ
ان کا چہرہ کہاں، گلاب کہاں میرے الفاظ روح سے خالی لذتِ معنئ ثواب کہاں
میں توصیفِ خیرالوریٰ کر رہا ہوں محمد محمد مدینہ مدینہ یہی ورد صبح و مسا کر رہا ہوں الاؤ دہکتا ہے سینے کے اندر جدائی کا سامنا کر رہا ہوں غموں اور دکھوں کی تمازت میں سر پر بہارِ مدینہ ردا کر رہا ہوں غلامی شاہ مدینہ کی صورت میں تقلیدِ رب علیٰ کر رہا […]
دل پذیر اور دل نشین سلام بھیجتا ہے درود ان پہ خدا پیش کرتے ہیں مومنین سلام تجھ کو کرتا ہے عرش سے خالق اے کھجوروں کی سر زمین سلام رمز اوقافِ الکتاب درود اس کی ہر آیت مبین سلام لکھ رہا ہے ابد کی تختی پر میرا ایمان اور یقین سلام پیروکار ان پہ […]
میں صبح شام دعا اپنے رب سے مانگتا ہوں چراغِ فکر کی لو کو بڑھا دیا جائے خدائے شہرِ مدینہ ادب سے مانگتا ہوں وسیلہ ہونا ضروری ہے باریابی کا دعائیں ساری نبی کے سبب سے مانگتا ہوں وہ میری فکر کی دنیا میں نور بھرتا ہے دعائیں جتنی بھی مظہرؔ میں ڈھب سے مانگتا […]
آخری وقت تھا رات خاموش تھی میری آہ و فغاں سنتے سنتے یہ شب تھک گئی اور تھک ہار کر سو گئی ایک میں جیسے تصویرِ سوز و الم باعثِ ہجر بیٹھا لیے چشمِ نم اپنے دل پر رکھے عکسِ نعلِ کرم مضطرب قلب کو چین دیتا رہا پھر کہیں دور سے ایک آواز نے […]
تارِ شب سے زماں کوخلاصی ملی اور بہاروں پہ پھر سے بہار آگئی جوق در جوق قدسی سرِ فرش تب سبز پرچم اُٹھائے اُترنے لگے ڈالی ڈالی پہ غنچے مہکنے لگے اور فرشِ جہاں یوں لگا جیسے خوشبو سے بھر سا گیا اور بہاروں پہ پھر سے بہار آگئی اُن کے قدموں کا دھوون تھا […]
رگِ جاں میں تحیر سا اُتر آیا اُس اک پل میں کہ جب یکلخت میرے دل پر اُن کا نقشِ پا اُبھرا تحیر میں تھا ششدر، لرزہ بر اندام تھا اُس پَل کہ یہ قلبِ سیہ میرا ،اور اس پر نعلِ پاک اُن کا؟ یہ دل تھا مخمصے میں تب یہ دھڑکے یا کہ رک […]
ہے مدینہ نازشِ اختر ترا جانِ زمن بھیجتا ہے رب ہی تیری شان کے شایاں درود ذکر ہے یوں عرش کے اُوپر ترا جانِ زمن زندگی میں زندگی کے رنگ بھی شام و سحر بھر رہا ہے گنبدِ اخضر ترا جانِ زمن روزِ محشر ہم کہاں جاتے کہاں چھپتے بھلا ملجٰی و ماوٰی نہ پاتے […]
جدھر اُٹھاؤں نظر اُدھر ہے جمال اُن کا شجر، حجر، بحر و بر سبھی ہیں اُنھی کے تابع کمالِ اوجِ کمال پر ہے کمال اُن کا بہ اذنِ بارِ الہ مالک ہیں ہر جہت کے جنوب و مشرق اُنھی کا ، مغرب ، شمال اُن کا مساء و صبح اُن کے در پہ آئیں گدا […]
جلوہ فرما اس مدینے میں شہِ لولاک ہیں شہرِ آقا کے گل و گلزار کا مت پوچھیے سب حوالے عطر و نکہت کے خس و خاشاک ہیں ماوراے ہر سما وہ دیکھتے ہیں لوح تک جو بھی ان آنکھوں پہ مَلتے اس گلی کی خاک ہیں ہر خطا سے وہ بہ اذن اللہ ہیں محفوظ […]