اترے ہے دل پہ عشق سا پیغام صبح و شام

سمجھاؤں جی کو خود کو کروں رام صبح و شام ذکرِ نبی کی بات الگ ہے، کیا کرو محسوس ہو گا خود بخود آرام صبح و شام زخموں سے چُور چُور ہوں لِلّلہ اک نگاہ سہتا رہوں گا کب تلک آلام صبح و شام پنجتن کا پاک اسم ضمانت سکوں کی ہے لب پر سجا […]

طائِف میں ایک نُور کا پیکر لہُو لہُو

یا کربلا میں دیکھا ہے خنجر لہُو لہُو کربل کتھا کا ہم کو ذرا حوصلہ نہِیں ہوتا ہے دِل ہی داستاں سُن کر لہُو لہُو سر شاہ کا جُدا تو کیا ہے لعِین نے محوِ کلام نیزے پہ ہے سر لہُو لہُو دیکھا ہے جب سے چشمِ تصوُّر سے کربلا جنگل لہُو ہے، دشت لہُو، […]

لہو کا ذائقہ جب تک پسینے میں نہیں آتا

میں پیدل چل کے مکّے سے مدینے میں نہیں آتا کوئی مقصد تو ہے سینے میں سانسوں کی تلاوت کا فقط جینا تو جینے کے قرینے میں نہیں آتا بس اُنگلی کے اشارے سے مرے دل کو بھی شق کر دے پگھلنے سے یہ پتھر آبگینے میں نہیں آتا مدینے کی ہَوا کی تمکنت ملتی […]

خدا اُس کا محافظ ہے جو ہے گلشن محمد کا

جلا سکتی نہیں بجلی کوئی، خرمن محمد کا یہ وہ نعمت ہے ، جس کو حاصلِ دنیا و دیں کہیۓ خدا شاہد ہے کافی ہے مجھے دامن محمد کا حدیث عشق ہے یہ اس کو اہل دل سمجھتے ہیں خدا کا ہے وہ دشمن جو کہ ہے دشمن محمد کا مری بے اختیاری پر نہ […]

صحنِ حرم سے دیکھ رہا ہوں حدِ نظر سے آگے بھی

دستِ دعا سے بابِ اثر تک بابِ اثر سے آگے بھی دیکھ نظر تو دیکھ سکے جو دیدۂ تر سے آگے بھی شہرِ نبی میں اک منظر ہے ہر منظر سے آگے بھی فرشِ زمیں سے عرشِ بریں تک چُھوٹ ہے گنبدِ خضرا کی خلدِ نظر ہی خلدِ نظر ہے خلدِ نظر سے آگے بھی […]

میں بہک سکوں یہ مجال کیا ، مرا رہنما کوئی اور ہے

مجھے خوب جان لیں منزلیں ، یہ شکشتہ پا کوئی اورہے مری التجا ہے یہ دوستو ، کبھی تم جو سوئے حرم چلو تو بنا کے سر کو قدم چلو ، کہ یہ راستہ کوئی اور ہے وہ حبیبِ ربِ کریم ہیں ، وہ رؤف ہیں وہ رحیم ہیں انہیں فکر ہے مری آپ کی […]

وہ جلوہ بار ہر سُو ہیں یہ میری خوش نصیبی ہے

نگاہیں میری آہو ہیں یہ میری خوش نصیبی ہے یہ کیا کم ہے کہ ہے توفیقِ اظہارِ طلب مجھ کو مری آنکھوں میں آنسو ہیں یہ میری خوش نصیبی ہے ادھر اک میں ہوں اور میری خطائیں ہیں ، ادھر لیکن کرم کے لاکھ پہلو ہیں یہ میری خوش نصیبی ہے تپائے تھے دماغ و […]

یوں سجدۂ تعظیم میں آقا کے پڑی ہے

جیسے یہ جبیں پائے مقدس سے جڑی ہے سو بار ہوئی سجدہ کناں بھی اسی در پر سو بار یہی عقل ہے جو دل سے لڑی ہے صد شکر کہ پابند ہوں احکامِ نبی کا نسبت بھی بڑی ہے مری قسمت بھی بڑی ہے انساں ہے نبرد آزما شیطاں سے بہ ہر گام انساں کا […]

خوشا حمد بر لب منور منور

نظر ، فکر ، دل سب منور منور ترے نور کے نور ہی سے ملا ہے غلامی کا منصب منور منور سکھاتا ہے قرآن ہی زندگی کو بسر کرنے کا ڈھب منور منور رہے تا ابد نورِ اول کے صدقے مری قبر یارب منور منور ان آنکھوں میں ہے کعبتہ اللہ ماجدؔ بہ ہر رنگِ […]