ہمسر ہے کون تیرا سارے جہان والے
سب ہیں ترے ثنا خواں ، اے آسمان والے ہر سمت ہیں بہاریں ، تیرے ہی دم قدم سے ہر جا ہے فیض تیرا ، کون و مکان والے ربِ رحیم ہے تو ، کتنا کریم ہے تو در کے ترے گدا ہیں ، سب آن بان والے جینے کا کیا تصور ، ترے بغیر […]
معلیٰ
سب ہیں ترے ثنا خواں ، اے آسمان والے ہر سمت ہیں بہاریں ، تیرے ہی دم قدم سے ہر جا ہے فیض تیرا ، کون و مکان والے ربِ رحیم ہے تو ، کتنا کریم ہے تو در کے ترے گدا ہیں ، سب آن بان والے جینے کا کیا تصور ، ترے بغیر […]
دو عالم میں ہے سکہ تیرا رواں سرِ فرش سے عرش تک بے گماں برابر ہے تجھ پر عیاں و نہاں ہزاروں طرح کے چمن در چمن کھلاتا ہے تُو لالہ و یاسمن نسیمِ سحر کو تری آرزو پھراتی ہے شام و سحر چار سُو اُگائے ہزاروں طرح کے شجر دیے سبز و شاداب برگ […]
اک فرشتہ جہاں پر نہ مارے وہ جو غربت میں دے دیں سہارے خود مسافر کو منزل پکارے بھیک دو آمنہ کے دلارے اک بھکاری ہے دامن پسارے ان کے آنسو حسیں اور اتنے جیسے عرش الٰہی کے تارے مسکرانے میں کوثر کی موجیں اور تبسم میں رحمت کے دھارے سجدہ ریز ان کے قدموں […]
لو چراغوں کی لگاتار بڑھا دیتے ہیں کس قدر حسن عنایت ہے مرے آقا کا کہ ضرورت سے بھی دو چار بڑھا دیتے ہیں دھوپ میں بیٹھے فقیروں کی خبر ہے ان کو دور تک سایۂ دیوار بڑھا دیتے ہیں آپ کے رحم کی تقسیم بڑھی جاتی ہے لوگ جب گرمئ بازار بڑھا دیتے ہیں […]
جو آپ کے ہیں وہ بس آپ کے بنے ہوئے ہیں خدا کی دین ہے ہاتھوں پہ کس کے کیا لکھ دے کہیں لکیریں کہیں قافلے بنے ہوئے ہیں دکھائی دیتا ہے شفاف ان میں عشق رسول ہمارے چہروں پہ جو آئنے بنے ہوئے ہیں یہاں پہ حکم ہے آوازیں پست رکھنے کا نبی سے […]
آئینہ وہی سنور گیا ہے جو نام پہ تیرے مر گیا ہے دنیا میں وو نام کر گیا ہے بیگانہ رہا جو تیرے در سے کم بخت وہ در بدر گیا ہے جس کو بھی ملا ترا سفینہ خوش بخت وہ یار اتر گیا ہے آئینۂ مصطفیٰ میں آ کر کیا جلوۂ حق نکھر گیا […]
کیا ہے لوح نے محفوظ افسانہ محمد کا بنا ہے مہبط جبرئیل کاشانہ محمد کا اب افسانہ خدا کا ہے ہر افسانہ محمد کا ڈرے کیا آتش دوزخ سے دیوانہ محمد کا کہ اٹھے شعلے گل کرتا ہے پروانہ محمد کا ظہور حال و مستقبل سے ماضی کو ملا دوں گا مجھے پھر آج دہرانا […]
روزے سے ہوں اور نعت عطا ہونے لگی ہے توفیق ملی ہے جو کھلی سانس کی مجھ کو جتنی بھی گھٹن تھی وہ ہوا ہونے لگی ہے اے عجز ِ بیاں دیکھ ‘ ذرا حرف ِ رواں دیکھ یہ نعت جو آنکھوں سے ادا ہونے لگی ہے اے شافعِ محشر مری دھرتی پہ نظر کر […]
پھر تو یہ ساری عمر ہی قربان نعت ہے سچ یہ ہے ساری زیست ہی دیوان نعت ہے "ہر گوشہء حیات میں امکان نعت ہے” تیری کُلاہِ فخر بھی پاپوش ہی تو ہے جوتے اتار ! دیکھ یہ ایوانِ نعت ہے رسمی مبالغوں کو پرے رکھ کے بات کر ثابت تو کر کہ ہاں مجھے […]
عجیب ہے یہ سمندر کہ ہے سفینے میں اسی زمیں اسی مٹی سے نور پُھوٹا تھا اسی دیار ، اسی رُت ، اسی مہینے میں ہے بند آنکھ میں بھی عکسِ مسجدِ نبوی جَڑا ہوا ہے یہی خواب اس نگینے میں کسی نے اسمِ محمد پڑھا تو ایسا لگا کہ جیسے کوئی پرندہ اُڑا ہو […]