دکھ درد کا ہوتا ہے درمان مدینے میں

سب مشکلیں ہوتی ہیں آسان مدینے میں دل اس کا مدینے سے پھر لَوٹ نہیں پاتا اک بار جو ہو جائے مہمان مدینے میں اب پیشِ نظر میرے بس طیبہ کا جلوہ ہے رہتا ہوں تصور میں ہر آن مدینے میں ساتھ اپنے درودوں کے نذرانے لیے جاؤ کام آتا ہے بس اتنا سامان مدینے […]

نبی کی حب سے علاقہ نہیں تو کچھ بھی نہیں

ہمارے سر میں یہ سودا نہیں تو کچھ بھی نہیں ہزار باغ بسے ہوں نگاہ میں پھر بھی نظر میں آپ کا روضہ نہیں تو کچھ بھی نہیں یہ مال و دولتِ دنیا یہ عزت و شہرت درِ حضور پہ تکیہ نہیں تو کچھ بھی نہیں سنا ہے میں نے یہ اہلِ نظر کو کہتے […]

مدینے کے والی تجھے دیکھتا ہوں

میں بن کے سوالی تجھے دیکھتا ہوں تجھے دیکھنے کی بڑی آرزو تھی اے روضے کی جالی تجھے دیکھتا ہوں دریدہ ہے دل تو ہیں آنکھوں میں آنسو لیے ہاتھ خالی تجھے دیکھتا ہوں مدینے کا پانی تجھے ہے میسّر کھجوروں کی ڈالی تجھے دیکھتا ہوں تجھے سب سے پہلے خدا نے بنایا ترا رتبہ […]

گنبدِ سبز کے انوار میں بیٹھے رہتے

کاش ہم آپ کے دربار میں بیٹھے رہتے آپ تشریف نہ لاتے جو وہاں سے آقا ساتھ صدیقؓ اسی غار میں بیٹھے رہتے شکر ہے آپ نے بلوایا ہمیں اپنی طرف ورنہ ہم محفلِ اغیار میں بیٹھے رہتے وقت کٹنے کا بھی احساس نہ ہوتا ہم کو محو ہم آپ کے دیدار میں بیٹھے رہتے […]

بیان کرتا رہوں یوں ہی عظمتِ آقا

مری حیات کا مقصد ہے مدحتِ آقا خدا کا شکر میں وابستہ ہوں درِ حق سے خدا کا شکر سلامت ہے نسبتِ آقا یہی وہ در ہے جو کُھلتا ہے خلد کی جانب کسی بھی حال میں چھوڑو نہ سنّتِ آقا حضور آپ کا طیبہ کو کوچ کر جانا نہ بھول پائے گی مکے کو […]

وہ ماہِ طیبہ مری آنکھ کو دکھایا گیا

پھر ایک حشر مرے دل میں بھی اٹھایا گیا خدا کا شکر ہے پھر بھی نبی کی راہ پہ ہوں ہزار بار مرے دل کو ورغلایا گیا نظامِ شمسی پہ واجب ہوا طواف اس کا ستارہ خاکِ مدینہ سے جب اٹھایا گیا انھی کی آل کی خادم ہے کائنات سبھی مجھے تو روزِ ازل سے […]

اولیں صفتِ صناع ، رسولِ قرشی

ہے جو مکی ، مدنی ، ہاشمی و مطلبی جس کا دین پیکرِ ہستی کی حیاتِ نو ہے جس کے آئیں میں برابر عربی و حبشی جس پر نازل کیا قرآنِ مبیں خالق نے اس سے انکار جو کرتا ہے ، وہ ہے بولہبی مثل اُس کا نہ سرِ عرش ، نہ بالائے زمیں ہے […]

درود پڑھتا ہوا نعت گنگناتا ہوا

مچل رہا ہے مرا دل مدینے جاتا ہوا حضور آپ کی مدحت کے راستے پر ہوں بڑے قرینے سے اپنے قدم اٹھاتا ہوا اگرچہ پاؤں برہنہ ہیں پھر بھی جاتا ہوں مدینہ شہر کی جانب میں مسکراتا ہوا عجب نہیں کہ اندھیروں سے پار ہو جاؤں قدم قدم پہ دیے نعت کے جلاتا ہوا حضور […]

ذکر اتنا مرے حضور کا ہے

وَرَفَعنا مرے حضور کا ہے گونجتا ہے جو ہر گھڑی مجھ میں اک ترانہ مرے حضور کا ہے مجھ پہ لازم ہے احترام اس کا جو دوانہ مرے حضور کا ہے روشنی جس کو لوگ کہتے ہیں مسکرانا مرے حضور کا ہے دل مرا اس لیے مہکتا ہے دل میں آنا مرے حضور کا ہے […]

تیرگی ذکرِ شہِ دین سے مر جاتی ہے

روشنی میرے خیالات میں بھر جاتی ہے صرف اسلام کا رستہ ہے وہ روشن رستہ زندگی جس پہ توازن سے گزر جاتی ہے اس لیے مجھ پہ شب و روز کرم ہے اُن کا دلِ بے تاب کی طیبہ میں خبر جاتی ہے ذکرِ سرکار کی لذّت ہے میسّر ہم کو رات کانٹوں پہ بھی […]