تری رہ گذر سے آگے کوئی راستہ نہیں ہے

ترے نقشِ پا سے افضل کوئی نقشِ پا نہیں ہے درِ مصطفیٰ سے جب تک اسے واسطہ نہیں ہے وہ قبولِ رب نہیں ہے وہ دعا دعا نہیں ہے مرے کعبۂ محبت میں بسا ہے کملی والا مرے دل کی سلطنت میں کوئی دوسرا نہیں ہے ترا شکر ہے خدایا کہ میں ان کا امتی […]

ہو ثنا خوانوں میں کچھ نام ہمارا آمین!

بس یہی ذکر ہو بخشش کا سہارا آمین! جب غلاموں کی صفیں حشر میں پائیں ترتیب میری جانب بھی ہو آقا کا اشارا آمین! فرد اعمال تو خالی ہے مگر روز حساب کاش سرکار کا مل جائے سہارا، آمین! وہ بھی دن آئے کہ پہنچوں میں تری چوکھٹ پر اور چمک اٹھے مقدر کا ستارا، […]

دیکھی ہے جب سے ایک نگینے کی آب و تاب

بھاتی نہیں کسی بھی خزینے کی آب و تاب اک نام نے کیا مرے ہونٹوں کو عطر بیز اک ذکر سے ہوئی مرے سینے کی آب و تاب سینے میں دل ہے ، دل میں ہے پوشیدہ اُن کی یاد دیکھے تو کوئی میرے دفینے کی آب و تاب اس آنکھ کے لیے کسی جنت […]

طشتِ سُخن میں لایا ہوں میں بھی سجا کے پھول

اے ربِ دو جہاں تری حمد و ثنا کے پھول یہ کہکشاں ، کواکب و خورشید و ماہتاب ہیں جلوہ ریز قدرتِ ربِ عُلا کے پھول جتنے چُنے ہیں لفظ تری حمد کے لیے یہ سب ہیں تیرے گلشنِ لُطف و عطا کے پھول سوسن ، گُلاب ، سُنبل و ریحان و نسترن ہر باغ […]

آپ کا حُسنِ تصور لطف فرماتا رہا

میں مدینے کی طرف آتا رہا جاتا رہا اِس طرف پڑھتا رہا میں جھوم کر نعتِ رسول اُس طرف دریائے رحمت جوش میں آتا رہا لوگ تیری راہ میں کانٹے بچھاتے ہی رہے پھر بھی تُو لطف و کرم کے پھول برساتا رہا آستانے سے ترے ملتی ہے راہِ مستقیم تیرے در سے جو بھی […]

دیدۂ شوق تو دیدار کی خواہش کو سنبھال

چشمِ پُر نم کی درِ یار پہ بارش کو سنبھال وہ کرم کر دیں گے تو بھیج درودی تحفے نہ مچل ضد نہیں کر عشق کی آتش کو سنبھال کوچۂ عشق سے مشکل ہے گزرنا اے دل گر گزرنا ہے تو دھڑکن کی بھی لرزش کو سنبھال تندیِ بادِ مخالف سے زبوں حال ہوں میں […]

عقل تحیر میں ہے، گم ہیں ہوش و خرد محبوبِ احد

جانتا ہوں میں پیشِ مدینہ اپنی حد، محبوبِ احد کہتے نہیں کچھ آپ خدا کی مرضی اگر نہ شامل ہو اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی اس کی سند محبوبِ احد آپ ہیں نورِ ذاتِ الٰہی مالکِ کُل ، مختار بھی ہیں اس میں نہیں ابہام نہ کوئی رد و کد ،محبوبِ احد چاند، ستارے، سورج […]

نطق و خامہ نور زا ہیں جستجوے نعت ہے

دم بہ دم الحمد مجھ کو آرزوئے نعت ہے ایک چھینٹا نور کا، اے صاحبِ کوثر کرم بندۂ عاجز کے ہاتھوں میں سبوئے نعت ہے ایک کاغذ اک قلم اور مطلعِ نعتِ نبی شوق کے اصرار پر اِس فن میں جوئے نعت ہے مطلعِ انصاف پر فائز ہیں روزِ حشر آپ رُخ غلاموں کا سرِ […]

ہر طرف کون و مکاں میں آپ ہی کا نور ہے

سر بہ سر دونوں جہاں میں آپ ہی کا نور ہے آپ کو تملیکِ کُل ہے مالک و مختار سے ہر نفس ہر ایک جاں میں آپ ہی کا نور ہے نازشِ عالم ہے حسنِ مصطفیٰ سے مستعار تابشِ حسنِ جناں میں آپ ہی کا نور ہے آگہی نورِ خدا کی آپ نے انساں کو […]

روشن ہے کراں تا بہ کراں اسمِ محمد

ہے باعثِ تکوینِ جہاں اسمِ محمد چکّھوں گا میں اس نورِ پُر انوار کی لذت رکّھوں گا یونہی وردِ زباں اسمِ محمد اِس نام کی برکت سے ہوئی دور بلائیں ہے دافعِ ہر درد و زیاں اسمِ محمد لکھا ہے سرِ لوح بڑی شان سے رب نے ہے زود اثر ، نور فشاں اسمِ محمد […]