کرے گا بابِ اجابت کو باز حرفِ نیاز
بہ فیضِ نعت ہے نقشِ فراز ، حرفِ نیاز مَیں بے سبب نہیں بابِ ثنا پہ فرخندہ خُدا کا شکر ، سخن کا ہے ناز حرفِ نیاز حضور نعت نہیں ، حاضری کی حاجت ہے حضور پیش ہے بہرِ نیاز حرفِ نیاز یہی ہے درگہِ مدحت میں خامشی کا نقیب مرے سخن کا ہے تنہا […]