کرے گا بابِ اجابت کو باز حرفِ نیاز

بہ فیضِ نعت ہے نقشِ فراز ، حرفِ نیاز مَیں بے سبب نہیں بابِ ثنا پہ فرخندہ خُدا کا شکر ، سخن کا ہے ناز حرفِ نیاز حضور نعت نہیں ، حاضری کی حاجت ہے حضور پیش ہے بہرِ نیاز حرفِ نیاز یہی ہے درگہِ مدحت میں خامشی کا نقیب مرے سخن کا ہے تنہا […]

وہ رشکِ صد ستارہ ہے ، نبئ اول و آخِر

جو طلعت جُو تمھارا ہے ، نبئ اول و آخِر جہاں کے خام کاروں کا ، زماں کے شرم ساروں کا ترے در پر گزارا ہے ، نبئ اول و آخِر اُسے کیا خوفِ رسوائی ، اُسے کیا حُزنِ تنہائی جسے تیرا سہارا ہے ، نبئ اول و آخِر تجھے وہ سب سناؤں کیا ، […]

تشبیب تھے ، تمہید تھے ما قبل کے اخیار

تشبیب تھے ، تمہید تھے ماقبل کے اخیار اے مطلعِ دیوانِ ازل ، قافیہ انوار ! بے ربط ہُوا جاتا ہے سانسوں کا تسلسل لازم ہے کہ ڈھے جائے ترے ہجر کی دیوار بے وجہ نہیں پُرسش و رسوائی سے بے غم ہیں برسرِ محشر ، مرے سرکار طرفدار بکھرے نہ کبھی حرف کی حُرمت […]

میانِ روزِ جزا بنے گا گواہ کاغذ

بہ فیضِ مدحت دمک اُٹھا ہے سیاہ کاغذ مَیں نقش کرتا ہُوں اس کے ماتھے پہ مدحِ تازہ بڑھائے جاتا ہے یوں مری عز و جاہ کاغذ وہ کاغذی جادہ جس پہ اُن کا ہے نام رخشاں فلاحِ دارین کی ہے تنہا یہ راہ کاغذ برائے ارقامِ نعت میں صرف سوچتا ہُوں نمایاں کرتا ہے […]

جنابِ صدیق ؓکے ہماری فہم سے ارفع مقام بھی ہیں

نبی کی امت میں ہر قیادت کے تاابد وہ امام بھی ہیں عمل کا داعی یقیں کی منزل کرم کا چشمہ درِ سخاوت وہ سارے اصحاب میں درخشاں وہ سب کے ماہِ تمام بھی ہیں وہ آبروئے خلوص و ایثار و صدق و عشق و وفا و دانش پر انکی مدحت کے کب ہیں لائق […]

گلاں سُن کے ای فِدا ہون تے دل کردا اے

تیرے انداز نوں ویکھاں گا تے کیہ ہووے گا حُسن پُھلاں دا جے ویکھاں تے میں قربان ہوواں حُسنِ گُل ساز نوں ویکھاں گا تے کیہ ہووے گا ٹور جبریل  میرے آقا دی توں ویکھ تے سہی تیری پرواز نوں ویکھاں گا تے کیہ ہووے گا عقل حیران ہوئی راز حقیقت پا کے صاحبِ راز […]

قتیلِ تیغِ فنا ! جادۂ بقا کو ڈھونڈ

برائے خیر ، محمد کے نقشِ پا کو ڈھونڈ کریم رکھتے نہیں ہیں ثنا کو تا بہ طلَب ورائے عرضِ طلب گوہرِ عطا کو ڈھونڈ میانِ حشر شفاعت کی موجِ دل افزا خطا سرشت کی لے گی ہر اِک خطا کو ڈھونڈ فصیلِ فہم سے بالا رضا کی منزل ہے ازل ، ابد کے میاں […]

دھڑکنوں میں سمیٹ ، جاں میں باندھ

وردِ صلِ علیٰ زباں میں باندھ سلکِ قوسِ قزح میں حرف پرو مصرعِ نعت آسماں میں باندھ کھینچ خطِ نیاز چاروں طرف گنبدِ سبز درمیاں میں باندھ مدحِ معراج کے تعامل میں ایک احساس لامکاں میں باندھ ماورائے سخن ہے نعتِ نبی لاکھ تدبیرِ نو ، بیاں میں باندھ طاقِ ایقاں میں رکھ چراغِ ثنا […]

دے اس عدم نژاد مقدر کو بھی نمود

اے رونقِ بہارِ گُلتسانِ ہست و بُود ! کیا اوجِ لا شریک تھا معراج کا سفر گردِ رہِ یقیں تھی امکاں گہِ صعود تجھ ہی سے فیض یاب فقیرانِ بے نوا تیرے ہی ریزہ خوار یہ سب صاحبانِ جُود جس میں ثنا کی کشتئ قرطاس ہے رواں کتنی سخن نواز ہے احساس کی یہ رُود […]

مالکِ جملہ و جاہت ، صاحبِ پہیم صعود

مالکِ جملہ و جاہت ، صاحبِ پیہم صعود سر بہ خَم ہے تیرے آگے سطوتِ نام و نمود اِک وہی ہیں مسندِ تخلیقِ اول کے امیں کُن سے پہلے ہم عدم تھے ، کُن سے پہلے وہ وجود مژدۂ بابِ اجابت شاد رکھتا ہے مجھے جب دعا میں پڑھتا ہُوں مَیں ، اول و آخر […]