جذبِ اظہار سلامت ہے ، سخن ہے آباد

مدحتِ ساقئ کوثر ہے ہمہ خیر کُشاد موجۂ بادِ مدینہ ! کبھی امکان کا لمس دیر سے وقفِ تمنا ہے کوئی ہجر نژاد وہ ترے شہر کو جاتی ہُوئی احساس کی رَو وہ ترے کوچے کو وارفتہ رواں حرف کا زاد مہر آثار ترے دشت کے کِھلتے ہوئے رنگ کُحلِ ابصار ترے شہر کی خاکِ […]

نَو بہ نَو اظہار جُو ہے خَلق دانِ ہست و بُود

رشتۂ لولاک قائم ہے میانِ ہست و بُود تُو ہی تُو ہے صوتِ کُن لم یزل اظہار میں غایتِ تکوین و تزئینِ جہانِ ہست و بُود تیری خوشبو کا سفر ہے قبل و بعدِ ممکنات تیری طلعت کے نشاں ہیں سب نشانِ ہست و بُود نعت ہی کا مصرعِ اول ہیں غایاتِ نمو نام ہی […]

دشتِ احساس پہ ہے لطف کا میلان فراح

ترا انعام فزوں ہے ، ترا احسان فراخ اِک خطا کار کو حاصل ہے شفاعت کی نوید اِک گماں زاد کا ہے عفو پہ ایقان فراخ اُن کی توفیق کو شایاں ہے بلا روک عطا اُن کی درگاہ میں رکھ عرض کا دامان فراخ ملتفت ہوتے گئے وہ بھی بہ حرفِ مدحت جس قدر ہوتا […]

بے وجہ تو نہیں ہے مری پُر بہار صبح

اِک گُلستانِ نعت سے ہے مستعار صبح آنے کو ہے نوید دیارِ حضور سے پانے کو ہے قرار مری بے قرار صبح پیہم رکھا ہے نعتِ نبی نے سپردِ خیر تمکین بار شام ہے ، تسکین بار صبح ہونے دے اور میری شبِ وصل کو دراز آہستہ گام ! اے مرے بے اختیار صبح اِک […]

عجز ، مدحت ، ولا ، دُعا سب کچھ

اُن کی چوکھٹ سے ہی ملا سب کچھ اُن کے کہنے سے بن گئی ہر بات اُن کی مرضی سے ہو گیا سب کچھ اُس کرم خُو کی خُوئے خیر میں ہے ماسوا ایک حرفِ ’’ لا ‘‘ سب کچھ وہ ہی کرتے ہیں چارہ سازئ دل جا اُنہیں کو بتا دلا ! سب کچھ […]

کربِ درونِ ذات کا بھی اندمال سوچ

مقصودؔ ! عجزِ حرف سے نعتِ کمال سوچ وہ بارگاہ اور بیاں کی یہ بے بسی لفظوں سے ماورا کوئی اظہارِ حال سوچ اُس سے کرم بھی مانگ ، خُدائے کرم بھی مانگ جیسی کریم ذات ہے ویسا سوال سوچ وہ دید یاب تیرہ برس ، وہ زمانِ خیر شہرِ کرم نواز کے وہ ماہ […]

آفتِ وہم کو خبر نہ سمجھ

اپنے جیسا انہیں بشر نہ سمجھ نسبتِ نُور سے ہے طلعت یاب نقشِ نعلین کو قمر نہ سمجھ جان ، اَولیٰ کا معنئ مطلوب جان کو اُن سے پیشتَر نہ سمجھ شافعِ حشر کا ہو دامن گیر اور پھر حشر کو خطَر نہ سمجھ اُن کے الطافِ بے نہایت کو اپنی خواہش پہ منحصَر نہ […]

دے مجھے توفیقِ مدحت ، رکھ مری حیرت کی لاج

اے کرم خُو ، جُود پرور ، عفو زا ، رحمت مزاج ! کس قدر بہجت فزا ہے نعت ہونے کا عمل شوق میں ہوتا ہے جب حرفِ عطا کا امتزاج شاہِ دیں کے منطقے میں ہے عجب اوجِ نمو سنگ و خشتِ رہ گزر ہیں باعثِ رشکِ زجاج مدحتِ شاہِ اُمم سے معتبر ہیں […]

مَیں ہُوں کیا ، کیا مرا گفتہ ، مرے والی وارث

لایا ہُوں حرفِ شکستہ ، مرے والی وارث طُرفہ انداز سے یہ خُلد مکانی ہو رواں سامنے ہوں دمِ رفتہ ، مرے والی وارث دید کی ساعتِ بیدار سے تاباں کر دے کہ مرا بخت ہے خفتہ ، مرے والی وارث چُپ کی دہلیز پہ ہے سجدہ کناں حرفِ طلب نعت ہے بر لبِ بستہ […]

تقویم کا پندار ہیں وہ سال تریسٹھ

پندار کا معیار ہیں وہ سال تریسٹھ تحسین کی تجسیم ہیں ساعاتِ معالی انوار بہ انوار ہیں وہ سال تریسٹھ موقوف اُنہی پر ہے شرَف یابئ ہستی کونین میں شہکار ہیں وہ سال تریسٹھ معراجِ سکینت ہے وہی عرصۂ فرحاں تسکینِ دلِ زار ہیں وہ سال تریسٹھ سرشارِ عطا رکھتے ہیں احساسِ دُعا کو فیضان […]