عجزِ بیانِ حرف سے رنگِ ثنا سمیٹ

لکنت نصیب شوق ! وفورِ عطا سمیٹ آیا ہے شہرِ نازِ شفاعت میں عفو جُو جا جا ! نویدِ عفو ہے ، فردِ خطا سمیٹ چشمِ غمِ حیات میں رکھ اشکِ اندمال کربِ دروں کے واسطے خاکِ شفا سمیٹ کس زور پر ہیں اُن کی عطا کیش بارشیں جُود و کرم سے بھیگے حروفِ دُعا […]

ایک سورج اُتر آیا ہے شبِ تام کے ساتھ

جب مؤذن نے پکارا ہے تجھے نام کے ساتھ اذن و ایجاب کے مابعد قلم لکھتا ہے نعت کے حرف عطا ہوتے ہیں انعام کے ساتھ آپ کے اسمِ محمد کا ہے اعجازِ لطیف بوسے لیتا ہُوں مَیں دو ، میم کے اِدغام کے ساتھ شوق نے تھامے ہوئے ہیں ترے احساس کے خواب رات […]

تھک نہیں سکتے کسی صورت ، مرے مدحت کے ہاتھ

دست گیری کر رہے ہیں جب تری رحمت کے ہاتھ ملتی رہتی ہے انہیں خیرات تیرے شہر سے آتے رہتے ہیں یہاں قسمت طلب نکہت کے ہاتھ بانٹتے ہیں خُشک موسم میں طراوَت کی نوید فصلِ گُل برکف ہیں دونوں قاسمِ نعمت کے ہاتھ آپ جیسا جب سخی ہے ، آپ جیسا جب غنی منفعل […]

حرف و بیانِ شوق سے یکسر فزوں ہے نعت

اپنے خیالِ خام کو کیسے کہوں ہے نعت لفظوں سے اور لہجوں سے ممکن نہیں نیاز جاں سے فریب ، دل کے کہیں اندروں ہے نعت آیاتِ نُور سے ہے ضیا یاب سطر سطر اے جذب زاد حرفِ جنوں ! دیکھ ، یوں ہے نعت اِک بے مثیل کیف ہو جیسے میانِ شوق حیرت گہِ […]

ثنا کے بابِ ناز پر تھے حرف جُو قلم دوات

کرم ہُؤا تو ہو گئے سخن نمُو قلم دوات طلَب کی اوٹ میں کھلے ہُوئے ہیں نَو بہ نَو چمن خیالِ مدحِ شاہ سے ہیں مُشکبُو قلم دوات ابھی تو دیر ہے فصیلِ ضَو پہ تابِ اسم کی ستارہ ساز ہیں ابھی سے چار سُو قلم دوات ثنا رقم ہیں صرف یہ درِ شہِ انام […]

دلیلِ نعت کہاں ارتکازِ حرف و صورت

سپردِ عجز ہے تابِ نیازِ حرف و صورت ورائے سدرۂ تخییل ہے ثنائے شوق خجل ہے جس سے ہر اک امتیازِ حرف و صورت تری طلب میں کہیں گم ہے میرا جذبِ دروں ترا خیال ہے میری نمازِ حرف و صورت بیاں کی شعلگی خاکسترِ سکوتِ مآل ہوئے ہیں صَرفِ ثنا سوز و سازِ حرف […]

اوج کا آخری نشاں تری بات

مطلعِ کُن پہ ضَوفشاں تری بات لبِ یوحیٰ سے بولنے والے ! جاوداں تُو ہے ، جاوداں تری بات تُو اذان و نماز کا منشا ہے کہاں اور نہیں کہاں تری بات بس یہی تو ہے ایک وجہِ نمو دمِ ہستی میں ہے رواں تری بات لفظ تیرے ازل ، ابد کو محیط ماورائے مکاں […]

خال و خدِ حیات ، تریسٹھ برس کی بات

ہے وجہِ ممکنات تریسٹھ برس کی بات پہلے تھی قوم و قریہ کے خانوں میں منقسم اب ہے ابد کی بات تریسٹھ برس کی بات اُس کے سبب ہیں جملہ شرَف بار سلسلے ہے حُسنِ کائنات تریسٹھ برس کی بات اِک بات ہے کہ جس کی بہَر سُو شُنید ہے آوازِ شش جِہات تریسٹھ برس […]