قوتِ اُمت عمر رضی اللہ عنہ

آیۂ صدق و صفا، صاحبِ صولت عمرؓ نورِ عدالت عمرؓ، فخرِ خلافت عمرؓ بن کے مُرادِ رسول ، صاحبِ ایماں ہوئے! پاتے ہیں کس ڈھنگ سے دِین کی دولت عمرؓ خواہرِ حضرت عمرؓ لائقِ تحسین ہیں دِین میں داخل ہوئے اُن کی بدولت عمرؓ جرأتِ فاروقؓ پر دنگ تھے اعدائے دِیں سب سے کہا برملا، […]

نعتیہ قصیدہ

(شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے عربی نعتیہ قصیدے کے منتخب اشعار کا آزاد ترجمہ) ۱۔ شبِ تاریک میں تارے چمکتے ایسے لگتے ہیں کہ جیسے اژدہے کی (دونوں) آنکھیں ہوں (اگر کچھ اور سمجھیں ہم تو کہہ دیں) بچھوؤں کے سر ۲۔ مصیبت میں کسی کا دل (غموں) سے بیٹھ جائے تو وہ صحراؤں،بیابانوں (کی […]

نسخۂ فوز و فلاح

آسماں بھی نہ تھا زمیں بھی نہ تھی مہر و ماہ و نجوم کچھ بھی نہ تھے صرف اِک ذاتِ پاک تھی تنہا اُسی لمحے اُسے خیال آیا کوئی دیکھے جمال بھی میرا ہر طرح کا کمال بھی میرا وسعتیں میری کوئی دیکھ سکے قدرتیں میری کوئی جان سکے پھر اُسی وقت رَبِّ اکبر نے […]

طلبِ مغفرت

مرے آقا ! میں حاضر ہو گیا ہوں آپ کے در پر! طلب ہے مغفرت کی معترف میں جرم کا بھی ہوں مرے آقا ! شفاعت میری فرمائیں! مرے اللہ  نے قرآن میں نسخہ بتایا ہے کہ جب بھی (اہلِ ایماں) اپنی جانوں پر کبھی کچھ ظلم کر بیٹھیں تو آجائیں نبی کے پاس رَبّ […]

رب کا منشا ہے کہ پھیلے شہِ ابرار کی بات

ساری دنیا میں چلے اُسوۂ سرکار کی بات نعتِ سرکار لکھوں اور عمل روشن ہو مدحِ آقا سے بنے سیرت و کردار کی بات ذکرِ اصحابِؓ گرامی بھی ہے مدحت اُن کی نجمؓ کی بات بھی ہے ماہ کے انوار کی بات کاش اخلاص بھی حاصل ہو کبھی لفظوں کو دلِ پاکیزہ کرے عشق کے […]

علوم حضرت آدم سے تا دمِ عیسیٰ

ہر ایک علم مکمل رسولِ اعظم میں نقوشِ لوحِ مقدس بہ خامۂ قدرت سبھی نقوش ہیں علمِ نبیِ خاتم میں نہیں ہے نام و نسب وجہِ شرف دیں کے بغیر یہ راز پنہاں ہے اتقیٰ میں اور اکرم میں چلے تھے سوئے نبی قتل کے ارادے سے قتیلِ عشق ہوئے خود ہی دارِ ارقم میں […]

میرے افکار ہوں محرومِ ضیا ناممکن

وہ سکھائیں نہ مجھے طرزِ ادا، ناممکن سوئے طیبہ درِ دل میں نے کھلا رکھا ہے میرے گھر آئے نہ طیبہ کی ہوا، ناممکن خانۂ دل میں ہیں مہمان رسولِ عربی غیر محرم کوئی آ جائے بھلا، ناممکن صرف ہمت سوئے آں شاہدِ اعظم کر دم بے خیال ان کے ہو سجدہ بھی ادا، ناممکن […]

نبی کی اس قدر مجھ پہ ہوئی رحمت مدینے میں

مجھے تو مل گئی یارو مری جنت مدینے میں پلک بھی کب جھپکتی ہے، کھڑا ہوں در پہ مولا کے گئی جانے کہاں سونے کی وہ عادت، مدینے میں جو سر سجدے میں رکھا پھر کہاں خود سے اٹھا پایا مجھے سجدے میں روکے ہے کوئی طاقت مدینے میں نوازا ہے بہت اب اپنے در […]

اے مرے مولا ترے غم کی نشانی دیکھ کر

آہ اک دل سے نکل جاتی ہے پانی دیکھ کر رکھ دیا اس کو حصار بازوئے عباس میں شاہ دیں نے دین حق کی بے امانی دیکھ کر زینبِ دلگیر کا خطبہ سنو گے کس طرح ڈر گئے بے شیر کی تم بے زبانی دیکھ کر قبر میں میری بھی کاشف آئے تھے منکر نکیر […]