باغ حیدر کے مقابل کون ٹہرا سر سمیت

باغ حیدر کے مقابل کون ٹھہرا سر سمیت ہو گیا منظر سے غائب اپنے پس منظر سمیت وہ تو غیض مرتضی پر رحم غالب آگیا ورنہ اے جبریل کٹ جاتی زمیں شہپر سمیت پہلے سر انتر کا کاٹا پھر کیا مرحب پہ وار لاش مرحب کی گری لیکن سر انتر سمیت ہاتھ میں اک پھول […]

ہم کو جو اہل بیت کی مدحت کا شوق ہے

دنیا میں باغبانی جنت کا شوق ہے ذکر علی سے روحوں کی تطہیر بھی کریں جن کو فقط بدن کی طہارت کا شوق ہے میثم ثنا کے شوق میں پہنچے ہیں دار پر یہ شوق بھی عجیب قیامت کا شوق ہے عشق علی نے کر دیا یوں ہم کو بے نیاز دوزخ کا ڈر ہے […]

قریب مرگ تھا آئی علی علی کی صدا

حیات ساتھ میں لائی علی علی کی صدا دعائیں ماں کے لئے کیں بہت سر محشر وہاں پہ کام جو آئی علی علی کی صدا میں مر گیا تو مری قبر میں بھی گونج اٹھی کچھ ایسی دل میں سمائی علی علی کی صدا گھرے ہوئے ہوئے ہو مصیبت میں دل جلاتے ہو ذرا لگاؤں […]

رُخِ احمد کو آئینہ بنانے کا خیال آیا

چراغِ بزمِ امکاں کو جلانے کا خیال آیا حریمِ ناز کے پردے اُٹھانے کا خیال آیا خدا کو نور جب اپنا دکھانے کا خیال آیا رُخِ احمد کو آئینہ بنانے کا خیال آیا انہیں کے واسطے پیدا کیا سارے زمانے کو انہیں پر ختم فرمایا زمانے کے فسانے کو سجی بزمِ جہاں محبوب کی عزت […]

لب پہ جب اُن کا نام ہوتا ہے

بات ہوتی ہے کام ہوتا ہے جو نبی کا غلام ہوتا ہے قابلِ احترام ہوتا ہے اُن کا جلوہ تو عام ہوتا ہے آنکھ والوں کا کام ہوتا ہے اُس کے حق میں کلام کیا ہوتا حق سے جو ہمکلام ہوتا ہے تجھ کو جنت مجھے وہ در واعظ اپنا اپنا مقام ہوتا ہے پاس […]

شانِ سرکارِ بطحیٰ بڑی چیز ہے

دونوں عالم کا آقا بڑی چیز ہے میری لوحِ جبیں کی یہ قسمت کہاں اُن کی خاکِ کفِ پا بڑی چیز ہے تاجدارانِ عالم کے کیا مرتبے اُن کی گلیوں کا منگتا بڑی چیز ہے راج والوں کی نعمت کوئی شے نہیں کملی والے کا ٹکڑا بڑی چیز ہے چاند تاروں میں ایسے اُجالے کہاں […]

جنہیں ان کے نظارے ہو گئے ہیں

وہ ذرے چاند تارے ہو گئے ہیں جسے تیرا سہارا مل گیا ہے اُسے کتنے سہارے ہو گئے ہیں تمہارے در کا ٹکڑا اللہ اللہ غریبوں کے گزارے ہو گئے ہیں نہیں ہے جن کا کوئی اس جہاں میں وہ بے کس سب تمہارے ہو گئے ہیں جدھر کو اُٹھ گئی ہیں وہ نگاہیں ادھر […]

سلونی سلونی کا یہ تاجور

میں کوفہ کی قاتل فضاؤں میں گم ہوں میں ماتم کی غمگیں صداؤں میں گم ہوں او ساجد کے قاتل او عابد کے قاتل او زاہد کے قاتل انگوٹھی کا تحفہ، تجلی، تشفی، عقیدت، محبت خدا کی رضاؤں کے قاتل او! کوفہ کی گلیوں،محلوں کی رونق کے قاتل دنوں کی سفیدی سے تیرہ شبی ایسے […]

یزیدوں کی نسلوں کو پیغام پہنچے

یہ میدان خُم میں جو من کُنتُ مولا کا نعرہ لگا تھا تو مسجد میں کوفے کی نفسِ مُحّمد علی کی شہادت اُسی قول سرور سے تمہاری نسلوں کی تھی یہ عداوت یہ من کُنتُ مولا کا نعرہ ہی تھا جس کی آتش کی حدت ہمیں کربلا میں یزیدوں کی نسلوں کے سینوں میں اُٹھتی […]