عزیزؔ شہرِ نبی شہرِ آرزو ہے مرا
مگر یہ بُعدِ مکانی بڑا عدو ہے مرا نبی سے طِیبِ تکلم کی بھیک مانگتا ہوں اِسی لیے سخنِ نعت مشک بو ہے مرا اُمیدِ طیبہ رسی منہ نہ موڑنا مجھ سے اندھیری رات میں واحد چراغ تو ہے مرا میں خود ہی بے عملی سے ہوا ہوں دشمنِ جاں جہاں میں اور کوئی شخص […]