رہنمائے قوم و ملت عاشق الرحماں چلے

گل ہائے تعزیت جانشین حضور مجاہد ملت یادگار اسلاف وحید الزمان ماہر ہفت لسان حضرت علامہ مولانا عاشق الرحمٰن قادری حبیبی رحمۃ اللہ علیہ آہ دے کے داغ فرقت عاشق الرحماں چلے —— رہنمائے قوم و ملت عاشق الرحماں چلے حامیِ قرآن و سنت عاشق الرحماں چلے رہبر راہ شریعت عاشق الرحماں چلے پیکرِ علم […]

طيبہ طاہرہ عابدہ فاطمہ

منقبت شان سیدہ پاک رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہا شہزادی رسول زوجئہ مولا علی مادر حسنین کریمین خاتون جنت طيبہ طاہرہ عابدہ زاہدہ زاہرہ سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہا —— طيبہ طاہرہ عابدہ فاطمہ زاہدہ زاہرہ سیدہ فاطمہ راحت جان خیرالوریٰ فاطمہ زوجئہ حضرت مرتضیٰ فاطمہ مادر سیدالاسخیا فاطمہ نور […]

متن میں ہو جو ذکرِ نبی ضوفشاں

خود ہی ہو جائے گی شاعری ضوفشاں عرشؔ* نے شعر کہنے کی ترغیب دی آمدِ مدحِ آقا ہوئی ضوفشاں دھیان طیبہ کی جانب گیا جب مرا ہو گیا قریۂ قلب بھی ضوفشاں اُن کی آمد سے پہلے اندھیرا ہی تھا وہ جو آئے تو دنیا ہوئی ضوفشاں ایک نقشِ نُخستیں کی تنویر سے بزمِ کونین […]

ہو لیلائے جاں کا جو محمل حضوری

ہمیشہ رہے دل کو حاصل حضوری عطا ہو کبھی حاضری کا وہ لمحہ کرے میرے دل کو بھی بسمل حضوری رہا کلبِ دنیا پراگندہ خاطر ہوئی حاضری میں بھی مشکل حضوری شریعت کا سرمایہ، طیبہ نصیبی حقیقت کا جوہر ہے کامل حضوری مکاں سے مکیں تک رسائی ہے ممکن بنے زائروں کی جو منزل حضوری […]

اُسوۂ ختم الرُّسُلْ سے جب ہو محکم رابطہ

دعویِ حُبِّ نبی ہو تب مجسّم رابطہ سرورِ کونین کی اُلفت کا یہ فیضان ہے سبز گنبد سے تصور میں ہے پیہم رابطہ لفظ تو طیبہ میں لب پر آ نہیں پائے مگر بن گئی دربار میں اشکوں کی شبنم رابطہ آپ ہی تخلیقِ اوّل آپ ہی نورِ مبیں آپ ہی مابینِ خالق اور آدم […]

ان فضاؤں میں جسد ہے روح کب موجود ہے

دل کو طیبہ کی فضاؤں کی ہے پیہم جستجو روح میری روضۂ اقدس پہ ہے مدحت سرا کررہا ہے پیش دل میرا وہ حرفِ آرزو جس میں ہے ارضِ مدینہ میں سما جانے کاشوق جس میں ہجرِ مصطفی کے درد کی ہے گفتگو کاش یہ کیفیّتِ قلب و نظر قائم رہے تادمِ آخر تمنّا ہو […]

نظر کو گنبدِ خضرا کی بھیک ملتی رہی

ہوا زمانہ یہ خیرات بھی وصولے ہوئے عجیب بات کہ اب ہیں عمل سے دور وہی گزر گئیں جنہیں صدیاں یہ دیں قبولے ہوئے الٰہی! اب تو یہ ملت بھی دِیں کی رہ پہ چلے گزر گئے ہیں زمانے یہ راہ بھولے ہوئے

مدینہ چھوڑ کے جانا ہے ایک بے کس کو

حضور ! اس کی تشفی کاکچھ تو ساماں ہو کہا یہ آنکھ سے پھر آج قلبِ مضطر نے زمینِ طیبہ میں پھر آنسوؤں کے بیج ہی بو ادب نے آہ و بکا پر لگائی ہے قد غن مگر ہے دل کا تقاضا کہ پھوٹ پھوٹ کے رو تمام عمر کی چادر پہ داغِ عصیاں ہیں […]