رُخِ مصطفٰی کی ہے روشنی یہ چمک جو شمس و قمر میں ہے

رُخِ مُصطفٰی کا ہی عکس ہے یہ دمک جو لعل و گہر میں ہے جو اٹھا رہا ہے قسم خدا وہ ترا ہے چہرۂ دلربا! کہ تُوئی سراجِ منیر ہے یہ قمر بھی تیرے اثر میں ہے ترے ہجر کی جو ہیں ساعتیں ،یہ سکون سارا ہی لے گئیں سو مداوا اس کا تمہی تو […]

خوش نصیبی! ترا آستاں مل گیا

اس کڑی دھوپ میں سائباں مل گیا تیری سیرت رہی جس کے پیشِ نظر اس کو منزل کا روشن نشاں مل گیا خوش مُقدّر ہیں وہ سب کبوتر جنہیں گنبدِ سبز پر آشیاں مل گیا کشتیٔ نوحؑ جس کو نبی نے کہا بے سہاروں کو وہ خانداں مل گیا خوش نصیبی کہ اذنِ حضوری ملا […]

کتب میں یکتا کتاب ٹھہری

وہ زندگی کا نصاب ٹھہری سبھی رسولوں میں ایک ہستی بڑی ہی عزت مآب ٹھہری کتابِ حق کی ہر ایک آیت نبی کی سیرت کا باب ٹھہری انہی کے دم سے ہے بس حقیقت وگرنہ ہر شے سراب ٹھہری یہ رحمتِ عالمیں کی رحمت تو گویا مثلِ سحاب ٹھہری میانِ عاصی و نارِ دوذخ وہ […]

ترِے شہرِ مقدّس پر تری رحمت کے سائے ہیں

اسی امید پر آقا! تری چوکھٹ پہ آئے ہیں مری بخشش کی کچھ صورت نکل آئے گی اس در پر گناہوں سے بھری گٹھڑی تبھی تو باندھ لائے ہیں یہ بخشش ہے نصیب اس کا ترِے در پر جو آ پہنچا کہ جس کے واسطے توُ نے یدِ رحمت اٹھائے ہیں مرے دکھ کا مداوا […]

جن کو نبی کی ذات کا عرفان مل گیا

دارین میں نجات کا سامان مل گیا ان پر نثار میں مرے اہل و عیال سب جن کے کرم سے تحفۂ ایمان مل گیا شکرِ خدا، کتابِ الٰہی کے ساتھ ساتھ خوش ہوں کہ عشقِ صاحبِ قرآن مل گیا جس کو درِ رسول پہ آئی اجل ، اُسے اس نسبتِ رسول کا فیضان مل گیا […]

ترے خواب کی راہ تکتی ہیں آنکھیں

غمِ ہجر میں ہی برستی ہیں آنکھیں بصارت ، بصیرت انہی کی فزوں تر ترا سبز گنبد جو تکتی ہیں آنکھیں سمائے ہوں جن میں مدینے کے جلوے تو ایسی بھلا کب بھٹکتی ہیں آنکھیں مجھے یاد آتی ہیں طیبہ کی گلیاں تو بے ساختہ پھر چھلکتی ہیں آنکھیں تری یاد سے جن کے روشن […]

بے سہارا ہیں ترے در پہ آئے بیٹھے ہیں

تیرے دربار میں دامن بچھائے بیٹھے ہیں بُتان نخوت و پندار سے ملے گی نجات سو اپنے قلب کو کعبہ بنائے بیٹھے ہیں حضور! بھیجا ہے اللہ نے ترے در پر کہ اپنی جان پہ ہم ظلم ڈھائے بیٹھے ہیں اپنے دامان میں اور کچھ نہیں ہے آقا! چار چھ اشکِ ندامت بہائے بیٹھے ہیں […]

دیکھ لوں جا کر مدینہ پاک کو

چین آئے دیدۂ نمناک کو سو رہا ہوں اس لیے بھی چین سے خاک نے سینے لگایا خاک کو پھر لحد میں ہوگیا ان کا کرم تک لیا ہے صاحبِ لولاک کو تیری نسبت سے ملا عزّ و شرف میرے آقا! ذرۂ خاشاک کو گنبدِ خضراء جو تیرے پاس ہے رشک ہے تجھ پر زمیں! […]

مجھ خطا کار پہ آقا جو نظر ہو جائے

زندگی میری مدینے میں بسر ہو جائے جس کو ہو جائے تِرے نام سے نسبت شاہا! بس وہی نام زمانے میں امر ہو جائے بن کے طائر جو مدینے کی فضا میں اُتروں ہجر کی رات کٹے اور سحر ہو جائے ٹہنیاں گاڑیں زمیں میں تو اُنہیں باغ کریں شاخ کو ہاتھ لگا دیں تو […]

ہوا کے دوش پہ رکھتا ہوں میں جلا کے چراغ

یہ آندھیاں بھی دکھائیں ذرا بجھا کے چراغ دل و دماغ پہ چھاتا ہے نُور کا بادل اٹھا کے ہاتھ، جلاتا ہوں جب دعا کے چراغ انہی کے نام چمکتے ہیں آسمانوں پر جو خونِ دل سے جلایا کیے وفا کے چراغ جہاں بھی جاؤں میں پاتا ہوں روشنی دل میں دل و نگاہ میں […]