گر طلب سے بھی کچھ ماسوا چاہیے

اُن کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ڈوبتی ناؤ کو ناخدا چاہیے اِک نظر اے شہِ دوسرا چاہیے دل کو دیدِ رُخِ مصطفی چاہیے آئینے کے لیے آئینہ چاہیے ہاتھ میں دامنِ مصطفی آگیا اِک گنہ گار کو اور کیا چاہیے لے چلو اب مدینے کو چارہ گرو مجھ کو طیبہ کی آب و ہوا چاہیے […]

اب کہاں جاؤں تڑپتے دل کی یہ خواہش نکال

اے مدینے کی زمیں میری بھی گنجائش نکال اے فضا طیبہ کی میرے گرد حلقہ کھینچ کر مدتِ عمرِرواں سے عرصۂ گردش نکال بارگاہِ مصطفیٰ میں دل سے یہ آئی صدا آج کی تاریخ سے تاریخِ پیدائش نکال پیش کر دینا قمرؔ سرمایۂ نعتِ نبی حشر میں جب حکم ہو گا نامۂ پرُسش نکال

کوئی مثل مصطفی کا کبھی تھا نہ ہے نہ ہو گا

کسی اور کا یہ رتبہ کبھی تھا نہ ہے نہ ہو گا اُنہیں خَلق کر کے نازاں ہوا خود ہی دستِ قدرت کوئی شاہکار ایسا کبھی تھا نہ ہے نہ ہو گا کسی وہم نے صدا دی کوئی آپ کا مماثل تو یقیں پُکار اٹھا کبھی تھا نہ ہے نہ ہو گا مرے طاق جاں […]

اب تنگیِ داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ

ہیں آج وہ مائل بہ عطا اور بھی کچھ مانگ ہر چند کہ آقا نے بھرا ہے تیرا کشکول کم ظرف نہ بن ہاتھ بڑھا اور بھی کچھ مانگ سلطانِ مدینہ کی زیارت کی دُعا کر جنت کی طلب چیز ہے کیا اور بھی کچھ مانگ جن لوگوں کو شک ہے کہ کرم ان کا […]

احمدِ مرسل فخرِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم

وہم کی ہر زنجیر کو توڑا، ایک خدا سے رشتہ جوڑا شرک کی محفل کردی برہم صلی اللہ علیہ وسلم کفر کی ظلمت جس نے مٹائی دین کی دولت جس نے لُٹائی لہرایا توحید کا پرچم صلی اللہ علیہ وسلم راہ میں کانٹے جس نے بچھائے گالی دی پتھر برسائے اُس پر ِچھڑکی پیار کی […]

تاجدارِ حرم ہو نگاہِ کرم ہم غریبوں کے دن بھی سنور جائیں گے

حامئ بیکساں! کیا کہے گا جہاں آپ کے در سے خالی اگر جائیں گے خوفِ طوفان ہے آندھیوں کا ہے غم، سخت مشکل ہے آقا کدھر جائیں ہم آپ بھی گر نہ لیں گے ہماری خبر، ہم مصیبت کے مارے کدھر جائیں گے میکشو آؤ آؤ مدینے چلیں، دستِ ساقئ کوثر سے پینے چلیں یاد […]

روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں

یہ کرم ہے حضور کا ہم پر آنے والے عذاب ٹلتے ہیں اب کوئی کیا ہمیں گرائے گا ہر سہارا گلے لگائے گا ہم نے خود کو گرا دیا ہے وہاں گرنے والے جہاں سنبھلتے ہیں ہیں کریم و کرم خصال وہی بھیک دیتے ہیں حسبِ حال وہی ان کو آتا نہیں زوال کبھی قسمتیں […]

ہم کو اپنی طلب سے سوا چاہیے

آپ جیسے ہیں ویسی عطا چاہیے کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چاہیے آپ کو علم ہے ہم کو کیا چاہیے اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور ہر قدم پہ کرم آپ کا چاہیے آستان حبیب خدا چاہیے اور کیا ہم کو اس کے سوا چاہیے آپ اپنی غلامی کو دے دیں […]

کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے

یہ سب تمھارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے عمل کی میرے اساس کیا ہے بجز ندامت کے پاس کیا ہے رہے سلامت بس ان کی نسبت میرا تو بس آسرا یہی ہے عطا کیا مجھ کو دردِ اُلفت کہاں تھی یہ پُرخطا کی قسمت میں اس کرم کے کہاں تھا […]

کرم آج بالائے بام آ گیا ہے

زباں پر محمد کا نام آ گیا ہے درودوں کی بارش ہے کون و مکاں پر کہ آج انبیاء کا امام آ گیا ہے مجھے مل گئی ہے دو عالم کی شاہی مرا ان کے منگتوں میں نام آ گیا ہے مرے پاس کچھ بھی نہ تھا روزِ محشر نبی کا وسیلہ ہی کام آ […]