حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبہ کا کعبہ دیکھو آبِ زم زم تو پیا خوُب بُجھائیں پیاسیں آؤ جودِ شہِ کوثر کا بھی دریا دیکھو زیرِ میزاب ملے خوب کرم کے چھینٹے ابرِ رحمت کا یہاں زور برسنا دیکھو دھوم دیکھی ہے درِ کعبہ پہ بیتابوں کی ان کے مشتاقوں میں حسرت کا تڑپنا دیکھو خوب […]