دیارِ نور کا ہر بام و در مطاف کیا
قدم قدم پہ مرے عشق نے طواف کیا جبینِ خامہ نے سجدے نثار کرتے ہوئے حروفِ نعت کو قرطاس کا غلاف کیا ورودِ یادِ شہِ دو جہان سے پہلے مشامِ جان میں خوشبو نے اعتکاف کیا پھرایا شمس کو واپس برائے مولا علی قمر کو ایک اشارے سے شین قاف کیا کرم ہے ان کا […]