یا نبی آپ کی چوکھٹ پہ بھکاری آئے

مانگنے رزقِ ثنا نعت لکھاری آئے رُت گُلابوں کی رگِ جاں کو معطر کر دے کُوئے خُوشبُو سے اگر بادِ بہاری آئے کاسۂ چشم لیے بیٹھا ہے اک مدت سے جانے کب تشنۂ دیدار کی باری آئے لکھنے والے ہمیں سرکار کے شیدا لکھیں گفتگو جب سرِ قرطاس ہماری آئے دھڑکنیں دف کے قرینے سے […]

کہکشاؤں کے سحر زیرِ قدم رہتے ہیں

زاویے فکر کے جب سوئے حرم رہتے ہیں شہرِ خوشبو میں ہو دھڑکن پہ ادب کا پہرہ سانس آہستہ، یہاں میرِ امم رہتے ہیں ان کے دربار سے لوٹے ہیں تو حالت یہ ہے ہجر کی گود میں با دیدۂ نم رہتے ہیں طائرِ فکر کا محور ہے فضائے مدحت خدمتِ نعت میں قرطاس و […]

حروفِ زر ناب کا حسیں انتخاب نکلے

حروفِ زرناب کا حسیں انتخاب نکلے مرے کفن سے نعوتِ شہ کی کتاب نکلے وہ قاب قوسین کی حقیقت سمجھ گئے تھے تو ایک اک کر کے درمیاں سے حجاب نکلے پکارا جب بھی رسولِ اکرم کا نامِ نامی سلگتے صحراؤں سے مہکتے گلاب نکلے سفر میں تشنہ لبوں کے جب خشک ہونٹ دیکھے تو […]

شاہِ کونین کی خوشبو سے فضا کیف میں ہے

چھو کے نعلینِ کرم غارِ حرا کیف میں ہے جب سے مانگا ہے شہِ کون و مکاں کا جلوہ لفظ ہیں رقص کناں حرفِ دعا کیف میں ہے ایسے دربار میں پھیلایا ہے دامانِ طلب التجا وجد میں ہے اور صدا کیف میں ہے کر کے آئی ہے ابھی کوئے معطر کا طواف کشتِ نوخیز […]

فلک سے ہے ارفع زمینِ مدینہ

تو کیا ہوگی سوچو جبینِ مدینہ بدن میرا خالی جہاں بھی رہا ہو رہا دل ہمیشہ مکینِ مدینہ قدم چومتا ہوں عقیدت سے ان کے پلٹتے ہیں جب عازمینِ مدینہ تڑپنے لگیں خواہشیں مثلِ بسمل رکا قافلہ جب قرینِ مدینہ کسی غیر کا مجھ پہ احسان کیوں ہو رہا ہوں، رہوں گا رہینِ مدینہ کوئی […]

عزت و عظمتِ شاعری نعت ہے

حرف اور صوت کی زندگی نعت ہے ہے وہ ناعت جو خوش ہے ولادت کی شب آمدِ مصطفیٰ کی خوشی نعت ہے حرفِ مدحت مرے مثلِ زرناب ہیں گویا میرے لئے سروری نعت ہے ہو عطا نعت یہ بھی کرم ہے مگر خواہشِ نعت بھی واقعی نعت ہے دل کی بے چینیاں منہ چھپا لیتی […]

ہونٹ جب اسمِ محمد کے گہر چومتے ہیں

تب کہیں حرفِ دعا بابِ اثر چومتے ہیں گھیر لیتے ہیں انہیں کیفِ کرم کے جگنو ان کی چوکھٹ کو جو با دیدۂ تر چومتے ہیں ان کے چہرے کی صباحت کا سماں کیا ہوگا جن کے تلووں کی لطافت کو قمر چومتے ہیں ورنہ پتھر کو کہاں ملنا تھا ایسا رتبہ آپ نے چوما […]

میرے آقا دیں گواہی جس کی ارفع شان کی

مدح کر سکتا ہے کوئی کیا بھلا عثمان کی نور دو بخشے گئے جس کو حریمِ نور سے ہمسری ممکن نہیں عثمان بن عفّان کی منکشف ہوگی اسی پر شانِ عثمانِ غنی جان لے گا جو حقیقت بیعتِ رضوان کی کر دیا نعت آشنا کو آشنا عثمان سے چاکری میں نے بھی کی ہے جامع […]

عرب کے روئے افق پہ چھٹکی جو صبحِ صادق کی روشنی تھی

وہ وجہِ تخلیقِ کون و امکان کی ولادت کی سرخوشی تھی خرامِ بادِ صبا میں اک منفرد تقدس رچا ہوا تھا ربیعِ اول وہ پہلی پہلی بہار گویا کہ ان چُھئی تھی جمیل شاخوں پہ سارے رنگوں کے تازہ غنچے چٹک رہے تھے عجب سی سرشار یوں میں رقصاں گلاب و سوسن کی ہر کلی […]

جن کے سینے میں ہے اکرام علی اکبر کا

ذکر کرتے ہیں وہ ہر شام علی اکبر کا ان کو بخشی ہے شہادت نے حیاتِ ابدی رونقِ خلد ہے انعام علی اکبر کا کربلا جائیں گے سادات کی خوشبو لینے جن میں ضو بار ہے اک نام علی اکبر کا روشنی کیا ہے یہ اندازہ بھی ہو جائے گا دامنِ نور ذرا تھام علی […]