اسمِ نبی آٹھوں پہر وردِ زباں رکھا گیا
بہرِ کرم سوئے حرم اپنا دھیاں رکھا گیا شہرِ نبی کی رفعتیں کوئی بشر سمجھے گا کیا جس کی زمیں کے زیرِ پا ہر آسماں رکھا گیا کیسا حسیں وہ قرب تھا محبوب سے معراج پر بس درمیاں میں فاصلہ مثلِ کماں رکھا گیا رتبے ہوئے محبوب کو کتنے عطا کس کو پتا کچھ ہو […]