اسمِ نبی آٹھوں پہر وردِ زباں رکھا گیا

بہرِ کرم سوئے حرم اپنا دھیاں رکھا گیا شہرِ نبی کی رفعتیں کوئی بشر سمجھے گا کیا جس کی زمیں کے زیرِ پا ہر آسماں رکھا گیا کیسا حسیں وہ قرب تھا محبوب سے معراج پر بس درمیاں میں فاصلہ مثلِ کماں رکھا گیا رتبے ہوئے محبوب کو کتنے عطا کس کو پتا کچھ ہو […]

حرفِ مدحت جو مری عرضِ ہنر میں چمکا

میرا ہر حرف زمانے کی نظر میں چمکا دے گیا کتنے شرف ایک سیہ پتھر کو ایک بوسہ جو ترے لب سے حجر میں چمکا وجہِ شادابیٔ عالم ہے یہ رنگِ اخضر ہر زمانے میں ہر اک برگِ شجر میں چمکا واسطہ ان کا دیا صلِ علٰی پڑھتے ہوئے میرا ہر حرفِ دعا بابِ اثر […]

مہبطِ انوار ہے ان کا ٹھکانہ نور نور

کاش پھر سے دیکھ لوں وہ آستانہ نور نور اک ہمیں چودہ صدی کے فاصلے سہنے پڑے خوش مقدر تھے ملا جن کو زمانہ نور نور اذنِ مدحت سے بڑی آسودگی بخشی گئی مل گیا رزقِ سخن کا آب و دانہ نور نور میری بھی فردِ عمل میں کچھ تو ہو بہرِ نجات ہو عطا […]

اے خدائے بحر و بر ، بابِ نعت وا کر دے

ہر سخن قبیلے کو ، نعت آشنا کر دے کھول دے مری جانب روشنی کی سب راہیں ٹال دے شبِ ظلمت صبحِ نو عطا کر دے لفظ کو رہائی دے لوحِ نا شگفتہ سے حرفِ ناصیہ سا کو واقفِ ثنا کر دے میری ہر تمنا کو رکھ جوارِ بطحا میں میری ساری سوچوں کو جانبِ […]

إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ

اللہ اللہ رب کے لب پر إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ہے در شانِ آلِ پیمبر إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ملا ہے یہ اذن ِ رَبّانی، پڑھیں نمازیں، دیں قربانی آپ کا دشمن ہوگا ابتر، إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ غمگیں تھے محبوب خدا کے، اِتنا کہا جبریل نے آکے آپ پہ اُتری سورۂ کوثر، إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ دی تھی […]

سرِ نظارت رخِ مدینہ کہاں سے لاؤں

عجم کی مٹی ہوں طورِ سینا کہاں سے لاؤں حضورِ اکرم سُنیں تو ہولے سے مسکرا دیں میں نعت کہنے کا وہ قرینہ کہاں سے لاؤں مہک تو سکتے ہیں اب بھی دونوں جہان لیکن میں شاہِ ابرار کا پسینہ کہاں سے لاؤں میں دیکھ پاؤُں شہِ مکرم کے نرم تلوے میں وہ مقدر وہ […]

جو نغمے نعت کے آنکھوں کو کر کے نم سناتے ہیں

تو قدسی پھول ان کے نام پر پیہم لٹاتے ہیں خدا دامان ان کے دولتِ رحمت سے بھرتا ہے جو نقشِ نعل کا گھر بار میں پرچم لگاتے ہیں ابھی صحنِ چمن سے بادِ کوئے شاہ گزری ہے گلوں پر حسنِ رنگ و نور کے موسم بتا تے ہیں نگاہِ کیمیا سے خاک بھی زر […]

دیارِ نور میں اک آستاں دکھائی دیا

کفِ زمیں پہ دھرا آسماں دکھائی دیا جناں کا نور تھا خوشبو کے مست جھونکے تھے دیارِ نور بہ رنگِ جناں دکھائی دیا خجل دکھائی دیئے ماہ و خاور و انجم جہاں حضور کا تلوا عیاں دکھائی دیا بدن جلانے لگی دھوپ روزِ محشر کی تو سبز نور بھرا سائباں دکھائی دیا وہیں پہ شوکتِ […]

عشقِ شاہِ دوسرا کی ابتدا صدیق ہیں

عاشقانِ شاہِ دیں کے مقتدا صدیق ہیں ایک اشارے پر تصدق مال سارا کر دیا مصدرِ ایثار ہیں، سب سے جدا صدیق ہیں سب کو بدلہ دے دیا میں نے، کہا سرکار نے جس کے احساں کی جزا دے گا خدا صدیق ہیں نرم خو، اہلِ وفا، علم و عمل کی آبرو منبعِ صبر و […]

چاندنی آ کے افلاک سے رات بھر

چومتی ہے مدینے کے دیوار و در نعت کے اوج کو چھو لیا حرف نے میرے الفاظ ہونے لگے معتبر سبز گنبد مواجہ ریاضِ جناں دیکھنے کو تڑپتا ہوں شام و سحر ارضِ طیبہ ہے لاریب رشکِ جناں سنگریزے مدینے کے شمس و قمر میں خطا کار ہوں اور نادم بھی ہوں اے رسولِ خدا […]