نعتوں کا اُجالا ہے عشقِ محمد تو
نعتوں کا اُجالا ہے عشقِ محمد تو بخشش کا حوالہ ہے
معلیٰ
نعتوں کا اُجالا ہے عشقِ محمد تو بخشش کا حوالہ ہے
زندگی کا سراغ دیتا ہے آسمان و زمین جس کے ہیں
اور اس کے جو درمیان ترا یہ زمان و مکان تیرے ہیں یہ جہاں تیرا ، وہ جہان ترا ثبت ہر قرن ، ہر زمانے پر تجھ سے پہلے بھی تھا نشان ترا ہم طلب گار تیری رحمت کے ہم پہ چھت تیری ، سائبان ترا سارے مشغول ہیں گدائی میں سنگِ در تیرا ، […]
مجھے لگتا ہے یہ مقبول ہونا چاہتی ہیں مدینے کے مناظر کو بیاں کیسے کروں میں مری آنکھیں وہاں کی دھول ہونا چاہتی ہیں نگاہیں اِک تحّیر سے جمی ہیں سنگِ در پر مجھے معلوم ہے مبذول ہونا چاہتی ہیں
میں نے اِک نام لکھا کاغذ پر
ہے سراسر عبادات کا سلسلہ وردِ صلِّی علیٰ کے سبب مجھ پہ ہے یہ مسلسل عنایات کا سلسلہ آپ کے نور سے مٹ گئیں ظلمتیں چھٹ گیا ہے سیہ رات کا سلسلہ ہے میسّر تیقّن کو امروز بھی مصطفیٰ کی کرامات کا سلسلہ صرف اذنِ حضوری کا ہوں منتظر ہو بھی جائے ملاقات کا سلسلہ […]
باغِ خلدِ بریں معنبر ہے عرقِ پاکِ شہِ مدینے سے ’’جانِ گل زار کے پسینے سے‘‘
ہم کو گھیرا اسی لیے غم نے دور اِس سے تو تاجِ شاہی ہے ’’اپنی مہمان اب تباہی ہے‘‘
ہے بالیقیں سبب یہ تسکینِ روح و دل کا جس کو مِلا یہ لوگو! قسمت کا وہ دھنی ہے ’’خوش ہوں کہ مجھ کو دولتِ انمول مِل گئی ہے‘‘
’’گوش بر آواز ہوں قدسی بھی اُس کے گیت پر‘‘ چوم لیں اُس کی زباں کو وجد میں وہ جھوم کر اُن کی عظمت کے ترانے جب سنائے خیر سے ’’باغِ طیبہ میں جب اخترؔ گنگنائے خیر سے‘‘