شکر خدا کہ آج گھڑی اس سفر کی ہے

بیٹھا ہوں رخت باندھ کے ، ساعت سحر کی ہے رونق عجیب شہرِ بریلی میں گھر کے ہے سب آ کے پوچھتے ہیں عزیمت کدھر کی ہے شکرِ خدا کہ آج گھڑی اس سفر کی ہے جس پر نثار جان فلاح و ظفر کی ہے شوط و طواف و سعی کے نکتے سکھا دئیے احرام […]

’’خاک ہو جائیں عدوٗ جل کر مگر ہم تو رضاؔ ‘‘

’’خاک ہو جائیں عدو جل کر مگر ہم تو رضاؔ ‘‘ اُن کی عظمت کے ترانے گائیں گے صبح و مسا جشنِ میلاد النبی یوں ہی مناتے جائیں گے ’’دم میں جب تک دم ہے ذکر اُن کا سناتے جائیں گے‘‘

’’عرش پر دھومیں مچیٖں وہ مومنِ صالح ملا‘‘

’’عرش پر دھومیں مچیں وہ مومنِ صالح ملا‘‘ رتبہ دیکھو شاہِ انس و جان کے مدّاح کا چھوڑ کر جب دوستو! وہ معمورۂ ظاہر گیا ’’عرش سے ماتم اُٹھے وہ طیّب و طاہر گیا‘‘