ہر اک بات امی لقب جانتے ہیں

بڑے باخبر ہیں وہ سب جانتے ہیں محمد پکارا تو کیا لطف پایا زباں جانتی ہے یا لب جانتے ہیں مجھے اشتیاقِ زیارت ہے کتنا مری چشمِ تر کی طلب جانتے ہیں غلاموں کو رکھتے ہیں اپنی نظر میں یہاں تک کہ نام و نسب جانتے ہیں ولادت کی شب کون غمگیں ہوا ہے کہاں […]

ہم کہاں مدحتِ سرور کا ہنر رکھتے ہیں

حرفِ توصیف میں بس دیدۂ تر رکھتے ہیں وہ جسے چاہیں گے تعبیر عطا کر دیں گے ان کی دہلیز پہ ہر خواب کا سر رکھتے ہیں موند کر آنکھ مواجہ پہ پہنچ جائیں گے ہم تہی دست یہی طرزِ سفر رکھتے ہیں بابِ تعبیر پہ اک ناقہ سوار آئے گا عجز پلکوں کا سرِ […]

یاد سینے میں سمائی ترے دربار کی ہے

مجھ کو مطلوب گدائی ترے دربار کی ہے مشک و عنبر مرے لفظوں میں گھلا تب جا کر گفتگو ہونٹوں پہ آئی ترے دربار کی ہے کون پوچھے گا سرِ حشر خطا کاروں کو ہم نے امید لگائی ترے دربار کی ہے در بدر ہوتا نہیں میرا ہنر مند قلم راہ توصیف سے پائی ترے […]

درود ان پر سلام ان پر، یہ ورد رائج ہے دوجہاں میں

زمیں پہ امت شجر پہ طائر، فرشتے پڑھتے ہیں آسماں میں ہوائے بطحا پیام لائی، کہ مسکراتے ہیں شاہِ والا غرور ٹوٹا خزاں رُتوں کا، گلاب کھلنے لگے خزاں میں بہار اُن سے ہے گلشنوں میں، قرار اُن سے ہے دھڑکنوں میں اُنہی سے ہے زندگی میں رونق، بسے ہوئے ہیں جو قلب و جاں […]

دور دکھ کی ردا ہو گئی ہے

غیر منقوط دور دکھ کی ردا ہو گئی ہے مدحِ سرور دوا ہو گئی ہے در ملے مہر و ماہِ حرا کا ہر کسی کی دعا ہو گئی ہے سائرِ لا مکاں کے کرم سے روح دکھ سے رہا ہو گئی ہے اس گلی سے کرم ہو رہا ہے وہ گلی مدعا ہو گئی ہے […]

میں بے قرار ہوں مجھ کو قرار دے ربیّ

مرا نصیب و مقدر سنوار دے ربیّ ہوا ہے گلشنِ امّید میرا پژمردہ خزاں کی کوکھ سے فصلِ بہار دے ربیّ قدم قدم پہ ہیں خارِ نفاق و بغض و حسد اس امتحاں سے سلامت گزار دے ربیّ میں مخلصانہ دعا دشمنوں کو دیتا رہوں تو میرے دل میں وہ جذبہ ابھار دے ربیّ کلائی […]

شمعِ عرفان و یقیں دل میں جلا دے مولیٰ

راہ جو سیدھی ہے، وہ راہ بتا دے مولیٰ تجھ کو پانے میں یہ قوت ہے رکاوٹ کا سبب فتنہ و شر کو مرے دل سے مٹا دے مولیٰ یہ گرفتار ہے گردابِ مسائل میں ابھی کشتیِ زیست مری پار لگا دے مولیٰ ساری مخلوق کا دراصل ہے تو ہی خالق آگ نفرت کی ہر […]

شکست میرا مقدر سہی سنبھال مجھے

متاعِ صبر عطا کر دے ذوالجلال مجھے فقط تری ہی محبت ہو خانۂ دل میں اس آرزوئے حقیقی سے کر نہال مجھے انا سے دل کو مرے پاک رکھ کہ اس کے سبب عروج لے کے چلا جانبِ زوال مجھے درست کر مری فطرت میں خامیاں ہیں بہت نواز خوبیِ کردار و خوش خصال مجھے […]

میرے جنونِ شوق کو ہوش و حواس دے

لہجہ اگر ہو سخت تو اس میں مٹھاس دے دنیا کے گوشے گوشے میں فصلِ کپاس دے جو بے لباس ہوں انھیں اچھا لباس دے ایسی مسرتیں کہ جو ہوں وجہِ گمرہی مجھ کو نہیں قبول، مجھے دل اداس دے شدت کی جب لگی ہو مجھے روزِ حشر پیاس کوثر کے آبِ شیریں کا مجھ […]

اثر پذیر مجھے طرزِ گفتگو دیدے

مرے خدا، مرے لفظوں کو آبرو دیدے میں تیرے ذکر مسلسل میں ہی رہوں مصروف دعا یہ ہے تو مجھے ایسی جستجو دیدے وجود اپنا مٹا دوں تری محبت میں ہے التماس یہی ایسی آرزو دیدے وہ جس نے پرچم توحید کو بلند کیا مری رگوں میں وہی گردشِ لہو دیدے شجر سکوں کا بنا […]