پڑا ہے اسمِ نبی سے رواج حرفوں کا

رہے گا صفحۂ ہستی پہ راج حرفوں کا جلا رہا ہوں چراغِ ثنائے سرورِ دیں لحد میں جاؤں گا لے کر سراج حرفوں کا پلا کے لفظ کی تلخی کو جام مدحت کے بنا رہا ہوں میں شیریں، مزاج حرفوں کا یہ حرفِ نعت زیارت گہِ ملائک ہوں کریں جو اشکِ رواں اندراج حرفوں کا […]

لبوں سے اسمِ محمد کا نور لف کیا ہے

تو زندگی کے اندھیروں کو برطرف کیا ہے اتر رہی ہے مرے دل پہ آیتِ مدحت حروفِ عجز و معانی کو صف بہ صف کیا ہے وہ آ رہے ہیں مرے قلب کے مدینے میں صدائے کربِ دروں کو صدائے دف کیا ہے وہی سکھائے گا توصیف کا قرینہ مجھے مجھ ایسے خام کو جس […]

جبینِ خامہ حضورِ اکرم کے سنگِ در پر جھکائے راکھوں

حسین لفظوں کی کہکشائیں برائے سرور سجائے راکھوں قلم سے نوشابۂ عقیدت ہمیشہ جاری رہے الٰہی ازل کی تشنہ سماعتوں کو جمیل ساغر پلائے راکھوں اگرچہ شایانِ شانِ پاپوشِ پائے اقدس نہیں ہیں لیکن یہ آرزو ہے کہ ان کی راہوں میں اپنی پلکیں بچھائے راکھوں ندامتوں سے نظر اٹھانا محال ہے ان کے آستاں […]

تھا ریگزار جس کو گلستاں بنا دیا

سرکار نے عرب کو بھی ذیشاں بنا دیا شق القمر کا معجزہ دکھلا کے آپ نے مکہ کے بدوؤں کو مسلماں بنا دیا باطل پرست ہو گئے حق آشنا سبھی جاہل تھے ان کو حاملِ قرآں بنا دیا جو بکریاں چراتے تھے ان کو حضور نے اسلام دینِ حق کا نگہباں بنا دیا سرور نے […]

سجدہ حسین نے جو سرِ کربلا کیا

ایسا کسی بشر نے نہ جگ میں ادا کیا دیں کی بقا کے واسطے خود کو فدا کیا نانا سے جو کیا تھا وہ وعدہ وفا کیا تا حشر یاد رکھیں گے قربانیٔ حسین حق تھا امام کا جو انہوں نے ادا کیا یہ کارنامہ حضرتِ شبیر ہی کاہے سر سبز خوں سے گلشنِ مہر […]

دعا ہے گلشنِ طیبہ میں روز جانے کی

وہاں رکھوں گا میں بنیاد آشیانے کی مری طلب ہے کہ جا کے مدینہ بس جاؤں جگہ ذرا سی ملے مجھ کو سر چھپانے کی بسا لو دل میں محبت حضور کی یارو جنہیں ہو آرزو جنت میں گھر بنانے کی مدینے مجھ کو بھی لے کے چلو خدا کے لئے پڑی ہوئی ہے مجھے […]

خوابوں کو حقیقت کی تعبیر دکھا دینا

افکارِ عقیدت کی رفتار بڑھا دینا عقبیٰ ہی کی بس مجھ کو اک فکرِ رسا دینا دنیا کی محبت کو اس دل سے مٹا دینا ایمان کے جذبوں کا طوفان سا اٹھتا ہے میں کیسے رقم کر لوں انداز سکھا دینا پہلے تو مدینے میں کر لینا طلب مجھ کو پھر گنبدِ خضریٰ کے والی […]

بھر دو داماں ہمارے آپ کی چوکھٹ پہ آئے ہیں

بھر دو داماں ہمارے آپؒ کی چوکھٹ پہ آئے ہیں کہ ہاتھوں کو پسارے آپؒ کی چوکھٹ پہ لائے ہیں سفینہ ہے بھنور میں ناخدا بھی پست ہمت ہے دکھا بھی دو کنارے غم بادل گھر کے آئے ہیں اسی در سے ملا ہے اور اسی در سے ملے گا بھی سخاوت کے کرشمے ہم […]