اور کیا چاہیے بندے کو عنایات کے بعد
عجز، مستغنی ہُوا آپ کی خیرات کے بعد موجۂ بادِ مدینہ نے رکھی لاج مری دل تسلی میں ہے اب تلخئ جذبات کے بعد ساعتِ سیرِ معلّٰی سے ہُوئی رمز عیاں بخدا وقت ہے اِک اور بھی دن رات کے بعد عرش تو ایک پڑاؤ تھا ’’دنیٰ‘‘ سے آگے وہ ملاقات ہُوئی پردئہ لمعات کے […]