خود کو ہر حکم کا پابند سمجھ لیتے ہیں

لوگ ، لوگوں کو خداوند سمجھ لیتے ہیں وہ پرستار ترے آگے نگوں رہتے ہیں جو ترا دست- ہنرمند سمجھ لیتے ہیں ٹوٹنے دیتے نہیں تیرا بھرم لوگوں میں ہم ترے جھوٹ کو ہرچند سمجھ لیتے ہیں بانٹ لیتے ہیں بہت شوق سے ذمے داری فرض جب باپ کا فرزند سمجھ لیتے ہیں روک لیتے […]

دل سوئے منزل نہیں یا میں نہیں

اب مری مشکل نہیں یا میں نہیں کیا رکاوٹ ہے حصول یار میں تو مرے قابل نہیں یا میں نہیں ؟ نوچ کے پھینکوں گی ساری خواہشیں یا تو اب یہ دل نہیں یا میں نہیں پیار اس کو ٹوٹ کے آنے لگا آج میرا تل نہیں یا میں نہیں عشق میرا ہو یا میری […]

دل کی بستی مین خزاؤں کے عذاب آتے ہیں

اس بیاباں میں کہاں تازہ گلاب آتے ہیں تم ناں اب اپنے لئے اور ٹھکانہ ڈھونڈو ان دنوں مجھ کو کسی اور کے خواب آتے ہیں ایسے لوگوں کو لگاتی ہی نہیں منہ ورنہ ایسی باتوں کے مجھے خوب جواب آتے ہیں عین ممکن ہے کہ وحشت میں کمی آ جائے اس خرابے میں اگر […]

شہر جاتے ہیں جو ماحول بدل لیتے ہیں

وہ محبت کے سبھی قول بدل لیتے ہیں وقت آتا ہے تو احساس کا در کھلتا ہے لوگ سانپوں کی طرح خول بدل لیتے ہیں آلہ ء قتل پہ ہونگے ترے ہاتھوں کے نشاں چل مرے دوست یہ پستول بدل لیتے ہیں چیخ پڑتے ہیں کہ کم ہو یہ اذیت ناکی وقت کیسا بھی ہو […]

مجھے نہ باپ کی نازوں پلی کہا جائے

ہے کرب ایسا کہ جنموں جلی کہا جائے ملا تھا باغ میں کچھ دن قیام کا موقع لہذا شاخ سے ٹوٹی کلی کہا جائے فقط گناہ ہیں منسوب ہم سے ، باقی لوگ وہ پارسا ہیں کہ ان کو ولی کہا جائے یہاں پہ رہتا ہے قدرت کا اک حسیں شہکار تری گلی کو بھی […]

کیا بگڑا ہے عشق گنوا کر ؟ خوش ہوں میں

کپڑے ، جوتے ، نوکر ، چاکر خوش ہوں میں ٹھوکر مار کے چاک کے ٹکڑے کر ڈالے خود اپنی ہی خاک اڑا کر خوش ہوں میں دیکھ فقیرا خوشیاں اچھی خاصی ہیں تو اب کوئی اور دعا کر ، خوش ہوں میں دل کی آج بھڑاس نکالی ایسے بھی شیشے کا گلدان گرا کر […]

جنتر منتر دھاگے شاگے جادو ٹونے والوں نے

تیری خاطر کیا کیا سیکھا تجھ کو کھونے والوں نے ایک طلسمی سرگوشی پر میں نے مڑ کر دیکھا تھا مجھ کو پتھر ہوتے دیکھا پتھر ہونے والوں نے اچھے کی امید پہ کتنے مشکل دن کٹ جاتے ہیں خواب محل کے دیکھے اکثر خاک پہ سونے والوں نے کتنی ماوں نے بچوں کو باتوں […]

روز دیتا ہے جنوں میرا ، دہائی صاحب

موجۂ ہجر نے پکڑی جو کلائی صاحب ہو نہ ہو یہ کسی دشمن کا کِیا لگتا ہے ورنہ مقتل تو سجاتے نہیں بھائی ، صاحب اپنی سوچوں کو بدلنے سے سماں بدلے گا ٹھہرے پانی پہ تو جم جاتی ہے کائی صاحب تھا ہُنر میرا کہ محفوظ رکھا آئینہ ورنہ لمحوں نے بہت دھول اُڑائی […]

میں رسمِ بغاوت کو ابھی آگ لگادوں

اس دل کی عداوت کو ابھی آگ لگادوں جو مفت میں یہ رنج و الم بانٹ رہا ہے اس شہرِ سخاوت کو ابھی آگ لگادوں شیرینیء گفتار کے پیچھے ہے بہت کچھ لہجے کی حلاوت کو ابھی آگ لگادوں آیا ہے مجھے کارڈ تری رسم- حنا کا اس ہجر کی دعوت کو ابھی آگ لگا […]