شاہد بھی وہی ہے عینِ مشہود وہی
مطلوب وہی کعبۂ مقصود وہی ہے غیر کہاں صنم کدے میں موجود معبود بھی خود وہی ہے مسجود وہی
معلیٰ
مطلوب وہی کعبۂ مقصود وہی ہے غیر کہاں صنم کدے میں موجود معبود بھی خود وہی ہے مسجود وہی
احباب سے یک دلی نہ چاہی ہم نے غم کھا کے رہے کہ فقر بدنام نہ ہو یہ عمر عزیزؔ یوں نباہی ہم نے
اور ہمت دوں سے یا الٰہی توبہ تقلید ہوائے نفس اور امید نجات اس جوش جنوں سے یا الٰہی توبہ
ایک ایک کی وضع اور مروت دیکھی دل میں کچھ ہے زباں پر کچھ ہے عزیزؔ آنکھیں کھلیں جب سے کہ حقیقت دیکھی
تیرے دیوانے کو ہر حال میں شاداں دیکھا
موت اُن کی منزلِ مقصود کا اک نام ہے
ذرہ ذرہ دے رہا ہے مژدۂ دیدارِ دوست
یاد رہے گا دشت کو میرے جنوں کا بانکپن
جنونِ شوق کی یہ چرخ پیمائی نہیں جاتی
بُوئے خوں آتی ہے اس فصل میں گلزاروں سے