تجھے اب کس لیے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے

جو پتے زرد ہو جائیں وہ پیڑوں پر نہیں رہتے تو کیوں بے دخل کرتا ہے مکانوں سے مکینوں کو وہ دہشت گرد بن جاتے ہیں جن کے گھر نہیں رہتے اسے جس دھوپ میں جبری مشقت کھینچ لائی ہے گھروں سے سائے بھی اس دھوپ میں باہر نہیں رہتے جھکا دے گا تری گردن […]

خودی کو آ گئی ہنسی امید کے سوال پر

اندھیرے تلملا اٹھے چراغ کی مجال پر یہ چاہتوں کا درد ہے یہ قربتوں کا حشر ہے جو دھوپ چھپ کے روئی آفتاب کے زوال پر یہ جان کر کہ چاند میرے گھر میں جگمگائے گا ستارے آج شام سے ہی آ گئے کمال پر نظر میں زندگی کی پھول معتبر نہ ہو سکے خزاں […]

بلندیوں کا تھا جو مسافر وہ پستیوں سے گزر رہا ہے

تمام دن کا سلگتا سورج سمندروں میں اتر رہا ہے تمہاری یادوں کے پھول ایسے سحر کو آواز دے رہے ہیں کہ جیسے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا مری گلی سے گزر رہا ہے الگ ہیں نظریں الگ نظارے عجب ہیں راز و نیاز سارے کسی کے جذبے چمک رہے ہیں کسی کا احساس مر رہا […]