اردوئے معلیٰ

Search

تجھے اب کس لیے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے

جو پتے زرد ہو جائیں وہ پیڑوں پر نہیں رہتے

 

تو کیوں بے دخل کرتا ہے مکانوں سے مکینوں کو

وہ دہشت گرد بن جاتے ہیں جن کے گھر نہیں رہتے

 

اسے جس دھوپ میں جبری مشقت کھینچ لائی ہے

گھروں سے سائے بھی اس دھوپ میں باہر نہیں رہتے

 

جھکا دے گا تری گردن کو یہ خیرات کا پتھر

جہاں میں مانگنے والوں کے سر اونچے نہیں رہتے

 

وہ میرا ہمسفر ہوتا تو اس کو بھی خبر ہوتی

جو گزرے آگ کی بستی سے ان کے پر نہیں رہتے

 

یقیناً یہ رعایا بادشاہ کو قتل کر دے گی

مسلسل جبر سے اسلمؔ دلوں میں ڈر نہیں رہتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ