کھل گئے ہھول لفافے پہ ترے نام کے گرد
کھل گئے پھول لفافے پہ ترے نام کے گرد رقص کرتا ہے قلم زیر و زبر میں کیسے
معلیٰ
کھل گئے پھول لفافے پہ ترے نام کے گرد رقص کرتا ہے قلم زیر و زبر میں کیسے
یہ بھی سچ ہے کہ ملاقات سے کیا ہوتا ہے
ہمارے کام جب آئی تو اپنی تشنگی آئی
دامن رفو ہوا ، نہ کوئی آستیں سلی
ہر صبح ہوا آ کر زنجیر ہلا دے گی اس چاند کے پیالے میں ہے زہر بھی امرت بھی تنہائی خدا جانے کیا چیز پلا دے گی
اک تار بھی نہیں کہ گریباں کہیں جسے
ہم نے وہیں کھولی تھی زخموں کی دوکاں پہلے
جو لوگ جانتے تھے وہ انجان ہو گئے
اُلجھ رہی ہے صبا ، راستہ نہیں ملتا حرم ہزار ملے ، بت کدے ہزار ملے زبان سوکھ گئی ، میکدہ نہیں ملتا
ایسی کوئی جگہ بتلاؤ ، ہونٹ جہاں تر ہوتے ہوں