مجنوں اور فرہاد کے قصے ناحق کیوں دہراتے ہو
یارو ہم نادان نہیں ہیں ، ہم کو کیا سمجھاتے ہو اچھی خاصی ویران ہیں جب اپنے شہر کی گلیاں بھی دیوانو! وحشت کرنے صحرا کی طرف کیا جاتے ہو
معلیٰ
یارو ہم نادان نہیں ہیں ، ہم کو کیا سمجھاتے ہو اچھی خاصی ویران ہیں جب اپنے شہر کی گلیاں بھی دیوانو! وحشت کرنے صحرا کی طرف کیا جاتے ہو
حدِ نگاہ تک ، تیرا پتہ نہیں ہاں میں ہوں بیوفا ، تو بیوفا نہیں میرا قصور ہے ، تیری خطا نہیں اے دشتِ آرزو ، کر تو ہی گفتگو اب تو یہاں کوئی ، میرے سوا نہیں سچ پوچھیے تو اب اہلِ جنوں کو بھی وحشت کا ان دنوں کچھ حوصلہ نہیں میں نے […]
بس لذتِ حیات سے ناآشنا ہے یہ صحرائے بازگشت میں اپنی ہی چاپ سُن اے جُرمِ آرزو تری شاید سزا ہے یہ گلچین و باغباں نے بھی آہٹ سنی مگر کلیاں پکار اٹھیں کہ بادِ صبا ہے یہ دنیا میں دامنوں کی کمی ، کیا مذاق ہے چپکے سے آنسوؤں نے کہا ، تجربہ ہے […]
کچھ طوفان زمیں سے ہارے ، کچھ قطرے طوفان ہوئے اپنا حال نہ دیکھیں کیسے ، صحرا بھی آئینہ ہے ناحق ہم نے گھر کو چھوڑا ، ناحق ہم حیران ہوئے دل کی ویرانی سے زیادہ مجھ کو ہے اس بات کا غم تم نے وہ گھر کیسے لُوٹا جس گھر میں مہمان ہوئے لوری […]
اس بستی کے بازاروں میں روز کہیں افسانے لوگ یادوں سے بچنا مشکل ہے ان کو کیسے سمجھائیں ہجر کے اس صحرا تک ہم کو آتے ہیں سمجھانے لوگ کون یہ جانے دیوانے پر کیسی سخت گزرتی ہے آپس میں کچھ کہہ کر ہنستے ہیں جانے پہچانے لوگ پھر صحرا سے ڈر لگتا ہے پھر […]
میں بہت دیرتک یونہی چلتا رہا، تم بہت دیر تک یاد آتے رہے زہر مِلتا رہا، زہر پیتے رہے، روز مرتے رہے، روز جیتے رہے زندگی بھی ہمیں آزماتی رہی، اور ہم بھی اسے آزماتے رہے زخم جب بھی کوئی ذہن و دل پر لگا، زندگی کی طرف اِک دریچہ کُھلا ہم بھی گویا کسی […]
بڑی بڑی ہرنوں جیسی دو پاگل آنکھیں مجھ سے کچھ کہتے کہتے کیوں رُک جاتی ہیں یا شاید میں ہی یہ زباں اب بھول گیا ہوں
وہ کبھی ناؤ تھی دریا لیے جاتا ہے جسے تیرا سایہ ہے لرزتا ہے جسے دیکھ کے تو اور آئینہ ہے ، تو یہ آنکھ دکھاتا ہے جسے باغباں بھی ہے یہی وقت یہی گل چیں بھی توڑ لیتا ہے وہی پھول اُگاتا ہے جسے ساری ہستی پہ نہ لے آئے وہ آفت کوئی کون […]
اٹھو کہ وقت یہی ہے ستارے توڑنے کا خود اپنے آپ کو پایاب کرتی رہتی ہے عجب جنوں ہے ندی کو کنارے توڑنے کا
کھٹے میٹھے تازہ تازہ میرے شعر