جڑ سے اُکھڑے ہوئے درخت سحرؔ
کب امیدِ سحاب رکھتے ہیں
معلیٰ
کب امیدِ سحاب رکھتے ہیں
اور ہم شکوۂ تنہائی لیے بیٹھے ہیں
اب کسی سے کوئی شکوہ نہ گلہ ہو جیسے
ہم خود اسیر ہو کے کُھلے گھر میں رہ گئے
ایک تقسیم کا اندوہ و محن یاد نہیں
شہر میں گھر بنا کے دیکھ لیا
حوصلہ دل کا بھی اب ٹوٹ رہا ہو جیسے
پھول تھے ، کچھ بکھر گئے یارو
لیکن کُھلا نہ اُس کی پہلی نظر میں کیا تھا
یہ بام و در تیرے آنے سے جگمگائے ہیں