ماضی کو سینے سے لگائے مستقبل کا ساتھ دیا

یوں ہم نے ہر بزم نبھائی ، ہر محفل کا ساتھ دیا خون ابھی باقی تھا رگوں میں اور یہ ظالم ڈوب گئی نبض ہماری کہلاتی تھی اور قاتل کا ساتھ دیا آتشِ دل آہوں میں ڈھلی اور اشک زمیں میں جذب ہوئے آگ ہوا سے مل گئی جا کر ، آب نے گِل کا […]

اپنی دریدہ ذات پہ ہم نے ، رفو کئے ہر چند بہت

چادر اصل تو تھوڑی رہ گئی ، اور ہوئے پیوند بہت زیست کی ساری تلخی سہہ لی ، پل بھر کا جو پیار ملا زہر کا پورا پیالہ بھی ہو ، تو چٹکی بھر قند بہت ہر چہرہ اک کھلا صحیفہ ، دل سے پڑھو تو علم اتھاہ دل کا دریچہ بند رہے تو اک […]

جو دانشور خزاں کو بانجھ کہتے تھے وہ جھوٹے تھے

خزاں کا آئینہ ٹوٹا تو ہر کرچی میں بُوٹے تھے یہیں جُھلسے ، بدن چٹخے ، یہیں پیاسوں نے جاں دی تھی اسی صحرا سے آبِ سرد کے چشمے بھی پُھوٹے تھے درِ زنداں کھلا ، ہم آئے باہر ، تو کھلا ہم پر وہی زنداں کا موسم تھا کہ جس موسم میں چُھوٹے تھے […]

میں گڑیا ہوتی تو

میں گڑیا ہوتی تو بچپن مجھ سے روٹھ نہ جاتا جن لمحوں میں میرے خالق نے مجھ کو تخلیق کیا تھا وہ لمحے امر ہو جاتے چاہے دکھ سکھ کے موسم کتنے ہی آتے میں گڑیا ہی رہتی ماضی اور مستقبل کے اندیشوں اور گورکھ دھندوں سے آزاد میں اپنے حال میں گم رہتی میرے […]