جسکو بھی عبادت کا مزہ آتا ہے
ذکر الہی جسکو بھی عبادت کا مزہ آتا ہے وہ شوق سے مسجد کی طرف جاتا ہے قرآن میں آیا ہے یہ فرمان خدا دل ذکر الہی سے سکوں پاتا ہے
معلیٰ
ذکر الہی جسکو بھی عبادت کا مزہ آتا ہے وہ شوق سے مسجد کی طرف جاتا ہے قرآن میں آیا ہے یہ فرمان خدا دل ذکر الہی سے سکوں پاتا ہے
کس قدر بانٹ گیا ہم کو تمہارا ہونا میں ، مرا کمرہ ، تری یاد ، سلگتا سگرٹ کیا اسی چیز کو کہتے ہیں گزارہ ہونا وہ مرے بعد بھی خوش ہو گا کسی اور کے ساتھ میٹھے چشموں کو کہاں آتا ہے کھارا ہونا تو محبت کا ہے تاجر تو یقیں کر تجھ سے […]
ایک مسکراتی ہوئی نستعلیق نظم ، منظوم خراج از نجمہ منصور ———- پیاری صدیقہ بیگم لوگوں کی نظر میں تم بہت اچھی دانشور ہو کاغذ اور قلم کے ساتھ تمہارا رشتہ اتنا ہی گہرا ہے جتنا روح کا بدن سے لفظ کا کتاب سے اور خواب کا آنکھ سے مگر میں نے جب جب تمہاری […]
بارانِ کرم (کوئٹہ کی برفباری سے متاثر ہو کر) ہنگامِ محشر (کوئٹہ میں برفباری کی تصویر کا دوسرا رُخ) از سید فخرالدین بَلّے گردوں سے برستے ہوئے یہ برف کے گالے تنتے ہوئے ہر سمت ہر اِک چیز پہ جالے دُھنکی ہوئی روئی کی طرح صاف شگفتہ شفاف، سبک، نازک و خود رفتہ و خستہ […]
میرے آقا! طالبِ الطاف ہوں جنتِ طیبہ کا مژدہ ہو عطا مضطرب بیٹھی سرِ اعراف ہوں
ابنِ حیدر تری زکوٰۃ میں ہے پیاس دیکھی ہے اس نے اصغر کی اب تلک تشنگی فرات میں ہے
یعنی طریقِ صبر و رضا کی نہیں مثال سر دے کے سرفراز ہیں، نازِ حیات ہیں آل نبی کی طرزِ ادا کی نہیں مثال
آسماں کو دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہوں میں
اتنا گھٹا، کہ خاک پہ سایہ سا رہ گیا ہنگامہ ہائے کارگہِ روز و شب نہ پوچھ اتنا ہجوم تھا ، کہ میں تنہا سا رہ گیا
(کوئٹہ میں برفباری کی تصویر کا دوسرا رُخ ) ہے برف کے اِس عکس میں سرشاری و مستی لیکن ہے اِسی عکس کا اِک دوسرا رخ بھی تصویر کے اس رُخ میں ہے ژولیدہ جوانی ہے ہوش رُبا صبر طلب ،جس کی کہانی گھنگھور گھٹائیں ہیں دھواں دھار دُھندلکا یَخ بستہ ہواؤں سے ہے اِک […]