ہے فلسفوں کی گرد نگاہوں کے سامنے
ایسے میں خاک، سوچ کو رستہ دکھائی دے دیدہ وروں کے شہر میں ہر ایک پستہ قد پنجوں کے بل کھڑا ہے، کہ اونچا دکھائی دے
معلیٰ
ایسے میں خاک، سوچ کو رستہ دکھائی دے دیدہ وروں کے شہر میں ہر ایک پستہ قد پنجوں کے بل کھڑا ہے، کہ اونچا دکھائی دے
نہیں اس طرف ہے کوئی وہ نظر جدھر نہیں ہے ترا غم ، تری محبت ، ہے جبینِ دل کا مرکز مرا ذوقِ سجدہ ریزی ابھی دربدر نہیں ہے نہیں دل ہے دل وہ جس میں تری یاد ہو نہ باقی جو اٹھے نہ تیری جانب وہ نظر نظر نہیں ہے مرا حال غم سنا […]
جن سے تری نگاہ پھری وہ بکھر گئے اس دور پر ملال میں آئے گی کیا ہنسی خنداں لبی کے یار زمانے گذر گئے منزل تمام عمر نہیں مل سکی انہیں رستے میں پا کے چھاؤں کہیں جو ٹھہر گئے آلامِ زندگی میں مزہ زندگی کا ہے وہ کیا جیئیں گے جو غمِ دوراں سے […]
لگا ہی لی ہے جو دل کی بازی، تو جیت کیا اور ہار کیا ہے
ایک لڑکا اور لڑکی دونوں ہی اِک دوسرے کو چاہتے تھے پیار کی سچّائیوں سے پوجتے تھے روح کی گہرائیوں سے مانگتے تھے رب سے جیون میل سنگت کی دعائیں جو کہ پوری ہو نہ پائیں لڑکا جل کر مر گیا اور لڑکی زندہ رہ گئی آنسو بہانے کو کسی کا گھر بسانے کو بچاری!
میری کچی عمر کی چاہت تمہیں معلوم ہوگا اِس کنواری عمر کی چاہت کے سارے نقش سارے رنگ پکے،دیرپا انمٹ،امر ہوتے ہیں میں تم کو بھلا دیتا مگر یہ غیر ممکن ہے
ابھی دو(۲) دن گزرنے دو دسمبر کے کہیں ایسا نہ ہو پھر حادثہ اِک رونما ہو جائے ہم تم ایک دوجے سے بچھڑ جائیں دسمبر اب کے ہے سفّاک اس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے مجھ کو لمحہ لمحہ ایک خدشہ ہے ابھی گھر میں ہی تم بیٹھی رہو بہتر ہے مجھ سے مت […]
میرے قدم قدم پہ سزا تھی سزا کے ساتھ اِک طاق پر چراغ جلانے کی چاہ میں کرنی پڑی ہے دوستی ہم کو ہوا کے ساتھ سوتا ہوں روز رات کو آغوشِ آہ میں ہر صبح جاگتا ہوں کسی بدعا کے ساتھ کیسے کرو گے اُس کی وفا کا یقین تم کوئی جو چل پڑا […]
کل کو میرے بچوں پر یہ واضح ہوگی ساری صورت سوچیں گے وہ ملتی ہے کیوں ؟ اُن کے ساتھ تمہاری صورت
مِرا اندر تلک مہکا گیا ہے وہ جو روشن تھا میرے فن کا سورج جُدائی میں تِری گہنا گیا ہے عقیدت ہو گئی بدنام ناحق نہ تیرا کچھ ، نہ کچھ میرا گیا ہے سکونِ قلب ، کاروبار ، شہرت تمہارے واسطے کیا کیا گیا ہے اچانک رُک گئی ہے زندگی کیوں؟ مجھے اِک نقطے […]