کوئی اپنی جھلک دِکھلا گیا ہے

کوئی اپنی جھلک دِکھلا گیا ہے

مِرا اندر تلک مہکا گیا ہے

 

وہ جو روشن تھا میرے فن کا سورج

جُدائی میں تِری گہنا گیا ہے

 

عقیدت ہو گئی بدنام ناحق

نہ تیرا کچھ ، نہ کچھ میرا گیا ہے

 

سکونِ قلب ، کاروبار ، شہرت

تمہارے واسطے کیا کیا گیا ہے

 

اچانک رُک گئی ہے زندگی کیوں؟

مجھے اِک نقطے پر ٹھہرا گیا ہے

 

خزاں کے موسموں کا زرد پتّا

ہوا کے خوف سے تھرّا گیا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تری نظر نے مرے قلب و جاں کے موسم میں
مری آنکھوں پہ حلقے پڑ گئے ہیں
اک روز پتلیوں سے ہٹا دی گئی تھی نیند
دعائیں مانگیں ہیں مدتوں تک جھکا کے سر ہاتھ اٹھا اٹھا کر
پیکار ہے وہ ہم سے کوئی دوسرا نہیں
رودادِ سفر جس کو سنائی ترے در کی
وہ جس کا سایہ ازل سے نشانِ رحمت ہے
سلوشن Solution
سمجھو کہ ہجرت کے طلسمات میں گم ہیں
نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے